اسرائیلی فوج کی مسلسل کارروائیوں کے باعث شمالی مغربی کنارے میں فلسطینی شہری مکمل طور پر گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے تازہ آپریشنز میں درجنوں افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 160 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
چائلڈ رائٹس تنظیم سیو دی چلڈرن نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے شدید چھاپوں اور تشدد کے خوف نے خاندانوں کو گھروں میں قید کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل فلسطینیوں کو دوسرے ممالک جبری بےدخل کرنے لگا
تنظیم کے مطابق اس صورتحال نے بچوں کی تعلیم، خاندانوں کی آمدنی اور بچوں کی گرفتاری و تشدد کے خطرات میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بدھ سے شمال مشرقی طوباس گورنریٹ کے وسیع علاقوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ جنین سمیت مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہیں۔
فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق طوباس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ صحافیوں اور ایمبولینسوں کو بھی روک دیا گیا ہے، جس سے بنیادی خدمات مفلوج ہو گئی ہیں۔
جنین میں جمعرات کو پیش آنے والے واقعے میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے سرنڈر کرتے دو نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کی ویڈیو سامنے آئی، جس پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو گذشتہ ایک سال سے اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم کا عالمی سطح پر احتساب لازمی ہے، وزیراعظم
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
شمالی مغربی کنارے میں صورتحال بدترین ہے جہاں جنوری سے اب تک تقریباً 32 ہزار فلسطینی مہاجر کیمپوں کے رہائشی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں اور اسرائیل انہیں واپسی کی اجازت نہیں دے رہا۔
انسانی حقوق تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے وسیع پیمانے پر گھر مسمار کرنے کے اقدامات فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی منظم مہم ہیں۔
سیو دی چلڈرن سے وابستہ ایک کارکن امیر نے کہا کہ اس ہفتے کے چھاپوں نے عام شہریوں کی زندگیوں کو مفلوج کر دیا ہے، اور خاندان خوف کے سائے میں محصور ہیں۔




















