اسلام آباد : وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) کے دفتر میں بڑے پیمانے پر جعلسازی سامنے آ گئی۔
ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 29 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کے جعلی اسٹامپ پیپرز جاری کیے گئے جبکہ اسٹامپ فیس قومی خزانے میں جمع ہی نہیں کروائی گئی۔
ایف آئی اے نے اس مالی گھپلے پر فیڈرل ٹریٹری آفس کے 71 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیکسٹائل ایشیا نمائش 2025؛ پاکستانی صنعت کیلئے تاریخی پیش رفت
چھاپے کے دوران ایف ٹی او اسلام آباد کے دفتر سے ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا اور 20 ملازمین کو گرفتار بھی کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق جعلی لائسنس کے ذریعے اسٹامپ پیپرز جاری کیے گئے اور افسران نے جعلی اسٹامپ فیس اور کورٹ فیس قومی خزانے میں جمع نہ کرا کے تقریباً 296.498 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی انکوائری میں مختلف سینئر آڈٹ افسران، اکاؤنٹنٹس، ریکارڈ کیپرز اور دیگر شعبوں کے افسران کے نام سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کا اے آئی کی مدد سے 70 لاکھ سے زائد انکم ٹیکس گوشواروں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق ایف ٹی او اسلام آباد سے 2,638 جعلی TR-32 فارم بھی جاری کیے گئے، جبکہ ڈی آر اے برانچ سے بھی جعلی اسٹامپ پیپرز جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے نے کہا کہ ملزمان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اصل نقصان کا تعین فرانزک آڈٹ کے بعد ہو سکے گا۔
ایف آئی اے نے ایف ٹی او کے گزشتہ 10 سال کا فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور ایف آئی آر کی نقول متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی ہیں۔

