Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

طلاق کا نوٹس نوے دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوتا، سپریم کورٹ

 اسلام آباد : سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ طلاق کا نوٹس نوے دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوتا۔

فیصلے کے مطابق اگر شوہر نے بیوی کو بلاشرط طلاق کا حق تفویض کر رکھا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا مکمل اختیار بھی حاصل رہتا ہے۔

یہ فیصلہ محمد حسن سلطان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا گیا، کیس کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جبکہ 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شفیع صدیقی نے تحریر کیا۔

مزید پڑھیں: افواہیں حقیقت بن گئیں! ٹک ٹاکر سحر حیات اور سمیع رشید کے درمیان طلاق ہوگئی

عدالت کے مطابق میاں بیوی شادی کے بعد نیویارک میں مقیم تھے، جہاں سے بیوی 2023 میں بیٹی کے ساتھ کراچی واپس آگئی تھی۔

بیوی نے 3 جولائی 2023 کو شوہر کو کراچی سے طلاق کا نوٹس جاری کیا اور 10 اگست 2023 کو اس نوٹس کی واپسی کی درخواست جمع کروائی۔

یونین کونسل نے مقررہ 90 روز مکمل نہ ہونے پر طلاق کارروائی ختم کردی تھی۔ اس دوران شوہر نے نوٹس کی واپسی کے فوراً بعد نیویارک میں بیٹی کی کسٹڈی کا مقدمہ دائر کیا، جس پر نیویارک کی عدالت نے بیوی اور بچی کی واپسی کے احکام جاری کیے۔

مزید پڑھیں: میرا سیٹھی نے 2 برس بعد اپنی طلاق کی تصدیق کردی

تاہم یونین کونسل کو غیر ملکی عدالت کے احکامات کا کوئی سرکاری ثبوت موصول نہیں ہوا۔

یونین کونسل نے عدالت کو بتایا کہ بیوی اب نیویارک میں مقیم ہے، اور قانون کے مطابق طلاق کی کارروائی وہیں کی جائے گی جہاں فریق رہائش رکھتا ہو۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ طلاق نوٹس کی واپسی مؤثر تھی اور طلاق کی کارروائی صحیح طور پر ختم کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں