نا ہموار معاشی حالات کا شکار خواتین نیم عریاں لباس کا انتخاب زیادہ کرتی ہیں، تحقیق

ویب ڈیسکویب ایڈیٹر

28th Nov, 2019. 10:07 pm
خواتین

جدید تحقیق سے ثا بت ہوا کہ نا ہموار معاشی حالات کا شکار کچھ خواتین خود کو اعلیٰ طبقے کا ظاہر کرنے کی خاطر جسم چھپانے کے لیے ناکافی لباس کا انتخاب کرتی ہیں۔

یہ ریسرچ آسٹریلیا کی میلبرن یونی ورسٹی نے کی ہے اور اس کی روح رواں خاندس بلیک کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواتین لباس کو ایک طبقاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں جس سے انہیں اپنی سماجی اور معاشی حیثیت کے بارے میں دوسروں کو دھوکا دینے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔

یہ تحقیق آسٹریلیا کے نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جرنل میں شائع ہوئی ہے ، تحقیق میں اخذ کردہ نتائج کے مطابق خواتین کی جانب سے لباس کا انتخاب کرتے وقت در اصل طبقاتی اور معاشرتی تفریق کو چھپانا پیش نظر ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے ایک تجربہ کیا گیا جس میں 38 ممالک کے 300 افراد کچھ آن لائن تخیلاتی معاشروں کا حصہ بنے ، یہ تخیلاتی معاشرے درحقیقت اس وقت دنیا میں موجود کسی نہ کسی معاشی نظام سے مماثلت رکھتے تھے۔
اس تحقیق کے شرکاء سے کہا گیا کہ وہ بتائیں کہ اس تصوراتی معاشرے میں وہ اپنے سماجی رتبے کے بارے میں کتنے فکر مند ہیں؟ اور اسکے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی پہلی ڈیٹ کے لیے لباس کا انتخاب کریں۔

نتائج حیران کن تھے ، جن ملبوسات کا انتخاب کیا گیا ان میں سے کچھ جسم کو کم چھپاتے تھے اور کچھ زیادہ لیکن ان میں سے کوئی بھی جسم کو مکمل نہیں ڈھانپتا تھا۔ ریسرچرز نے دیکھا کہ وہ خواتین جنہیں معاشی طور پر کمزور معاشروں کا حصہ بنایا گیا تھا ، انہوں نے زیادہ عریانی پر مائل ، جنسی تحریک دینے والے ملبوسات کا انتخاب کیا اور جب ان سے اس کی وجہ معلوم کی گئی تو انہوں نے اس کی وجہ کم تر سماجی حیثیت کو قرار دیا۔

خاندس بلیک کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہےکہ جیسے جیسے معاشی نا ہمواری بڑھتی جائے گی، ویسے ویسے خواتین کے اپنی جسمانی خدو خال دکھائی دینے کے مسائل بڑھتے جائیں گے اور ساتھ ہی ان کے ذہنی مسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ خوبصورتی اس صورتحال کا سامنا کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتی ہے لیکن اس کی بھی ایک مدت ہوتی ہے لہذا خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی اس صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کریں۔

Adsense 300×250