Advertisement
Advertisement
Advertisement

تمباکونوشی کی طلب بڑھانے والی ان غذاؤں سے دور رہیں

Now Reading:

تمباکونوشی کی طلب بڑھانے والی ان غذاؤں سے دور رہیں
تمباکونوشی کی طلب بڑھانے والی ان غذاؤں سے دور رہیں

تمباکونوشی کی طلب بڑھانے والی ان غذاؤں سے دور رہیں

Advertisement

تمبانوشی ایک انتہائی بری عادت ہے جو آپ کی صحت کو متاثر کرکے کئی دائمی امراض کا سبب بنتی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد اسے چھوڑنے کی کوشش کرتی ہے اور چاہتی ہیں کہ وہ اس لت سے دور رہیں لیکن بعض دفعہ اسے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔

 ماہرین اس کی وجہ کچھ غذائیں بتاتے ہیں جسے کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب بڑھنے لگتی ہے اور نیکوٹین کی خواہش پیدا ہوتی ہے اس طرح آپ نہ چاہتے ہوئے بھی سگریٹ نوشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

گو اسموکر فری ڈاٹ کام کے ایک ماہر کے مطابق ایسے تمام افراد جو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں تو اس دوران کھائی جانے والی غذائیں اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ان تمام اقسام کی غذاؤں کا ذکر کیا جارہا ہے جو تمباکونوشی کی طلب میں اضافہ کرتی ہیں۔

جس طرح سگریٹ نوشی ایک بری عادات ہے اسی طرح دیگر نشے جس میں الکحل بھی شامل ہے کا استعمال برا ہے، الکحل بری ہونے کے ساتھ سگریٹ نوشی کو ترک کرنے میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہے اور نیکوٹین کی طلب کو بڑھاتی ہے جس سے سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

Advertisement

اس کے علاوہ مصالحہ دار، بہت زیادہ میٹھی یا بہت زیادہ نمکین اور تلی ہوئی غذائیں جیسے فرنچ فرائز بھی سگریٹ نوشی کی خواہش کو بیدار کرتی ہیں۔

ایسے تمام افراد جو اس بری عادت کو ترک کرنا چاہتے تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی روزمرہ کی خوراک پر نگاہ رکھیں یہ سب غذائیں نیکوٹین کو متحرک کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی چھوڑتے وقت ضرورت سے زیادہ میٹھا کھانے سے بھی گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس طرح آپ کو نیکوٹین کے متبادل کے طور پر شوگر کی لت لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تلے ہوئے  کھانوں سے بھی پرہیز کیا جانا چاہئے، کیونکہ یہ جسم میں چربی بڑھا سکتے ہیں اس طرح پیٹ کے گرد جمع ہونے ولی یہ ڈایافرام پر دباؤ ڈال سکتی ہیں اس طرح  سگریٹ نوشی ترک کرنے والی جدوجہد کو متاثر اور مشکل بناسکتی ہے۔

نمک کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں جسم میں پانی برقرار رہتا ہے، جس سے ڈایافرام کے گرد اضافی وزن پیدا ہوتا ہے۔ یہ اضافی دباؤ کا باعث بھی بنتا ہے جو سانس لینے کو محدود کر سکتا ہے اور آپ کے مقاصد پر قائم رہنا مشکل بنا سکتا ہے۔

کافی تمباکو نوشی نیکوٹین کے محرک کے طور پر کام کرتی ہے کیونکہ کافی میں موجود کیفین سگریٹ کے محرک اثرات کو بڑھاتی ہے، جس سے دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

Advertisement

کافی اور سگریٹ  کو روزمرہ کے معمول میں ایک ساتھ شامل کرنا اکثر ایک عادت اور تقویت دینے والا معمول بن جاتا ہے، جو دونوں کے درمیان تعلق کو مضبوط بناتا ہے، اس طرح تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش میں مشکل پیش آسکتی ہے۔

نیکوٹین کی طلب میں صرف کھانا ہی محرک نہیں ہے بلکہ موڈ میں تبدیلی، کھانسی اور بے خوابی جیسے عوامل بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کے دوران بہت سے ضمنی اثرات سامنے آتے ہیں سانس لینے میں دشواری ان میں سے ایک ہے اس لیے سانس اور مراقبہ کی مشق کریں، ورزش کریں۔

امریکا کے محکمہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے تقریباً 70 فیصد بالغ افراد  کا کہنا ہے کہ وہ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں جبکہ ان میں سے 50 فیصد سے زیادہ ہر سال چھوڑنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

جبکہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی دماغی امراض کے خطرے کو دوگنا سے زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
فصل کو حشرات سے بچانے کے لیے کیڑے مار ادویات کا بہتر ین متبادل دریافت
گریک یوگرٹ صحت کے لیے کیوں زیادہ مفید ہے؟
ورزش کرنے کا ایک اور فائدہ سامنے آ گیا
سبزیاں اور پھل کھانے والے افراد میں کس بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں؟
زیادہ وقت ٹی وی کے سامنے گزارنے کا یہ نقصان جان لیں!
نوجوان ہارٹ اٹیک کے خطرے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر