Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

پچاس ہزار سال پرانے برف نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خطرے سے خبردار کردیا

Now Reading:

پچاس ہزار سال پرانے برف نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خطرے سے خبردار کردیا
پچاس ہزار سال پرانے برف نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خطرے سے خبردار کردیا

پچاس ہزار سال پرانے برف نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خطرے سے خبردار کردیا

ہم جانتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ مضر گیس نہیں ہے تاہم یہ گرین ہاؤس گیسز میں شامل ہیں، گرین ہاؤس گیسز سے مراد ایسی تمام گیسز جو سورج کی شعاعوں کو جذب کرکے انہیں واپس خلا میں لوٹنے میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔

واضح رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گاڑیوں اور فیکٹریوں سے بے تحاشہ خارج ہوکر فضا میں جمع ہورہی ہے اور اپنی مقررہ قدرتی مقدار سے کئی گنا بڑھ چکی ہے جب سورج کی شعاعیں زمین پر آتی ہیں یہ اسے واپس جانے سے روک دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈگیس کی وجہ سے عالمی تپش یا گلوبل وارمنگ بڑھتی جارہی ہے۔

سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں پچاس ہزار سال پرانی مستقل برف جسے پرما فروسٹ کہاجاتا ہے کو فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی درست شرح کا اندازہ لگانے استعمال کیا۔

 جب برف کے اس ٹکڑے کے اندر کے ایک حصے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سالمات یامالیکیول کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ ہماری فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھنے جو شرح  ہے وہ بڑھتے بڑھتے اس برف کے سالمات کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہوچکی ہے جو کہ کم خطرے کی بات نہیں ہے۔

اس تحقیق کے مطابق گزشتہ 50000 سالوں میں فضا کے اندر کاربن ڈائی آکسائیڈ اتنی نہی بڑھی جتنی آج ہماری فضا میں موجود ہے اور یہ دس گنا زیادہ ہے۔

Advertisement

یہ تحقیق پروسیڈنگ آف اکیڈمی آف سائنس نے شائع کی ہے جبکہ اس میں بہت سارے ماہرین شامل تھے تاہم اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف ارتھ اور اوشن اینڈ ایٹموسفیئر سائنسز کی ماہر خاتون ڈاکٹرکیتھلین ویند کا کہنا ہے کہ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ آج ہم کلائمٹ چینج اور گلوبل وارمنگ میں کہاں پہنچ چکے ہیں اور ماضی میں اس کی شرح کیا تھی، اور اس کرہ ارض پر گزشتہ پچاس ہزار سالوں کی نسبت آج کے دور میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی شرح سب سے بلند ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ اضافہ حالیہ دوسو سال کے اندر صرف انسانی سرگرمی کی وجہ سے ہوا ہے۔

زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کبھی کمی اور کبھی اضافہ ایک قدرتی عمل کے طور ماضی بھی ہوتا رہا ہے جب برفانی عہد یعنی آئس ایج آیا تو اس کی شرح کم ہوگئی۔ اور اس کے بعد جب برف پگھلی تو کاربن ڈائی آکسائید کی شرح زیادہ ہوگئی۔ تاہم یہ ایک قدرتی طریقہ کار تھا جس سے زمین کے اوپر حیات ممکن ہوئی لیکن اب دنیا میں اربوں انسان، فیکٹریاں، کارخانے، گاڑیاں، لائف اسٹاک اور گوشت کی پیداوار جیسے بڑے عناصرنے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیزی سے خارج کرنا شروع کردیا ہے۔

واضح رہے کہ برف کی یہ شیٹ انٹارٹک میں کئی ہزار سال سے محفوط ہیں جنہیں پرما فروسٹ کہا جاتا ہے ان کے اندر ہوا کے چھوٹے چھوٹے بلبلے ہوتے ہیں جس طرح یہ برف کی قدیم ترین شکل ہے اسی کے طرح اس کے اندر ہوا کے مالیکیول ہوا کی بھی قدیم ترین شکل ہے۔

 برف کا یہ ٹکڑا انٹارٹک کی زمین سے تقریباً دومیل یعنی تین اعشاریہ دو کلومیٹر کی گہرائی سے کاٹ حاصل کیا گیا ہے اور برف کا یہ نمونہ ایک سلنڈر کی شکل میں ہے، جسے  کلائمٹ کا قدرتی ریکارڈ بھی کہا جاسکتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی شرح میں اضافہ سات ہزار سال پہلے شروع ہوچکا تھا، اس وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح صرف پانچ سے چھ گنا بڑی تھی۔ تاہم صرف پچپن سالوں کے اندر ہی سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس تحقیق کا فائدہ یہ ہے کہ ماضی کی اس پوری تصویر کو دیکھ کر ہم مستقبل کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انسان جس تیزی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کررہا ہے اس کا سب سے اثر سمندروں پر پڑے گا کیونکہ یہ سب سے پہلے سمندروں کے اندر جذب ہوگی اور سمندروں میں تیزابیت کا سبب بنے گی اس طرح  سمندر گرم ہوں گے وہ برف کو پگھلائیں گے اور گلوبل وارمنگ مزید بڑھے گی۔ گلوبل وارمنگ بڑھنے سے دنیا کے کئی ساحلی علاقوں میں پانی کی سطح بڑھے گی وہ زیر آب آجائیں گے طوفان عام ہوجائیں گے اور سائکلون کا دوردورا ہوگا۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
گوگل نے اشتہارات اور مارکٹنگ کے لیے اے آئی کے پیکج متعارف کرا دیئے
تربوز کھانے کے وہ فائدے جن سے آپ ناواقف ہیں
وزن میں کمی کے لیے یہ مزیدار سی ترکیب آزمائیں
موسم گرما میں روزانہ چہرہ کتنی بار دھونا چاہئے؟
ماہرین نے کافی کا ایک اور حیرت انگیز فائدہ پیش کردیا
مائیگرین کا سبب بنے والی اس عام سی وجہ سے واقف ہیں؟
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر