مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے برطانیہ خصوصی کردارادا کرے، نفیس زکریا

عبدالمجید نمائندہ

15th Nov, 2019. 08:07 pm
مسئلہ کشمیر

لندن: مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیےبرطانیہ میں  پاکستانی ہائی کمشین نے ایک اہم  اجلاس منعقد کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں بالخصوص برطانیہ اپنا کردار ادا کرے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے پاکستانی ہائی کمشین میں کشمیر کی تازہ صورتحال پر سمینار  منعقد کیا گیا جس میں ڈاکٹر عظمی رسول،ڈاکٹر سید نذیر گیلانی،ہائی کمشنر نفیس زکریا،پروفیسر نذیر شال،مسز نذیر شال،بین ایمرسن کیو سی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خیالات کا اظہار کیا۔  اس موقع پر کشمیریوں اوربرطانوی پاکستانیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

حریت رہنما نذیرشاہ گیلانی کا خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری رہنماہ نذیر گیلانی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ میں لاک ڈاؤن کو سو سے زائد روز ہوچکے۔ کشمیر اور کشمیری اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق خاص حیثیت رکھتے ہیں۔اقوام متحدہ کی قرار دادیں ان کو حق خودارادیت دیتا ہے مگر اس وقت اقوام متحدہ خود کنفیوز ہے ۔حقوق،تحفظ،خودارادیت ،انسانیت کا احترام چار اجزا پر مشتمل اقوام متحدہ کی قرار داد ہے۔

اس موقع پر بن ایمرسن کیو سی کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں صورتحال تشویشناک ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی منظرعام پر آچکی ہیں۔انیس سو اڑتالیس سے مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر پچانوے ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا،گیارہ ہزار کیسز خواتین سے زیادتی کے سامنے آچُکے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دو ہزار سولہ میں پیلٹ گن کے استعمال سے بچوں کو نشانہ بنا کر اندھا کیا گیا۔غیر شناخت شدہ اجتماعی قبروں کی دریافت بھی ہوئی جو افسوناک ہے۔ایک ایک قبر میں ستر سے سو افراد کی لاشیں ملیں۔

عظمیٰ رسول کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں  تشدد شدہ افراد کی داستانیں قابل تشویش ہیں۔بھارتی فورسسز کی جانب سے خواتین کو ان کے بچوں کے سامنے تشدد اور عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔کشمیری سپنے گھروں اور خطہ میں محفوظ نہیں ہیں۔کئی لاپتہ کشمیریوں کے بارے لواحقین لا علم ہیں وہ زندہ یا مار دئے گے۔کرفیو کے نفاذ سے خواتین کو خصوصی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اکیکی خاتون کرفیو میں باہر نکلے تو بھارتی فورسسز اہلکار ان کو ہوس یا تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔انسانیت کی قدروقیمت ختم ہوچکی ہے۔کم سن بچیوں کو بھی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔مقبوضہ میں جنسی ہراسمنٹ کی کاروائیاں لاتعداد ہیں۔

پروفیسر نذیر احمد شال چیرمین ساؤتھ اشیا ہیومن رائٹس اینڈ پیس کا کہنا تھا کشمیر اور کشمیری ستر سال سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ،سلامتی کونسل اور عالمی دنیا سے سفارتی سطح پر اس مسئلہ کشمیر پر مثبت ردعمل کے منتظر ہیں۔ یہ کرسچین،مسلم یا ہندو ازم کا مسئلہ نہیں یہ انسانیت کی قدر،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ ہے۔یہ فاشٹ مودی کی ذہنیت اور ہندو وتا کی بدترین اقدامات ہیں ۔قومیں خوشحالی و ترقی چاہتی ہیں مگر تحفظ اور انسانیت کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔بھارت منظم سازش کے تحت کشمیریوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل سے قبل عالمی اقوام کو بھارتی فاشٹ ذہنیت کو سمجھنا ہوگا۔مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات میں مگر حق خودارادیت اور آزادی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کی مسز شمیم شال کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو بھارتی فورسسز تشدد  اور قتل کرکے  خوف و ہراس پیدا کر رہی ہے۔بچوں کو سکول جانے سے روکا جاتا ہے۔فیملیز کو گاڑیوں سے نکال کر خاوند یا اس کی اہلیہ کو بچوں کے سامنے قتل کیا جاتا ہے۔کشمیریوں کو منظم سازش کے تحت قدرتی اجناس کی تباہی سے معاشی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے

نفیس زکریا کا خطاب

اس اہم تقریب سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے برطنیہ میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف نسل کشی کی جارہی ہے۔ خواتین کی عصمت دری پرانسانی حقوق  کے تمام اداروں نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ایک سو بارہ دن کے کرفیو سے بچے دودھ تک کو ترس گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور کیمونیکیشن کے تمام راستے منقطع ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظر عام پر جس میں بچوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنانا،خواتین کی عصمت دری،نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کا حق ملا تھا لیکن اس پر ستر سال سے عمل نہ ہوسکا۔ستر سال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ماضی کی رپورٹس اور کمیشن کی تجاویزات موجود جس میں مقبوضہ کشمیر ک مسائل کو اٹھایا گیا۔مسئلہ کشمیر کو سیاسی اور سفارتی سطح پر ہر پلیٹ فارم پر اٹھایا۔بھارت گھناؤنی سازش سے ہمیشہ پاکستان اور کشمیروں پر قدغن لگاتا رہا ہے۔دونوں فریق ایٹمی طاقت ہیں۔کشمیر کے حل میں عالمی اقوام بالخصوص برطانیہ خصوصی اپنا کردار ادا کرے۔

Adsence 300X250