وزیر اعظم کی ٹیکسوں میں کمی لا کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت


شہباز احمد رپورٹر

08th March, 2021
وزیراعطم
Square ad 300 x 250

وزیراعظم  نے ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لا کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق  وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے  اہم اجلاس ہوا۔

اجلاس میں مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، محمد حماد اظہر، سید فخر امام، اسد عمر، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، عبدالعلیم خان و متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز  شریک ہوئے۔

مخدوم ہاشم جوان بخت، پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے چیف سیکرٹریز  نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

وزیر اعظم کو ملک میں گندم کی پیداوار، کھپت اور ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔

 گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے  بھی وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر صنعت محمد حماد اظہر نے ملک میں چینی کی پیداوار اور قیمتوں کے حوالے سے وزیر اعظم کو بریف کیا۔

خوردنی تیل، پیٹرولیم مصنوعات و گیس کی قیمتوں میں ممکنہ حد تک کمی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

چیف سیکرٹریز  نے صوبوں میں گندم کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی۔

  ماہ رمضان میں عوام کو رمضان بازاروں و دیگر انتظامات کے ذریعے سستے آٹے کی فراہمی کے حوالے سے انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ   آٹے   اور چینی جیسی بنیادی اشیاء کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ   بنیادی اشیائے ضروریہ کے ضمن میں مستحق اور غریب افراد کو براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سبسڈی براہ راست مستحق افراد کو میسر آئے گی۔    سبسڈی کے نظام کو شفاف اور موثر بنایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ  اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹے جیسی بنیادی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو اور گندم کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے  پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ خوردنی تیل،  پیٹرولیم مصنوعات  اور دیگر اشیاء پر عائد ہر ٹیکس کا جائزہ لیا جائے۔  جہاں تک ممکن ہو ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ   بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔   اس بوجھ میں کمی لانے کے لیے آؤٹ آف باکس سلوشنز تجویز کیے جائیں۔ جہاں ریاستی آمدن متاثر نہ ہو وہاں غریب عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ سے بچایا جائے۔