حیدرآباد میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری، عوام پریشان

Web Desk

08th Dec, 2021. 01:21 pm

حیدرآباد میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ کورونا کے دواران کام کرنے والے ورکرز کو ریگولر کیا جائے۔
اپنے مطالبات کے حق میں ینگ ڈاکٹرز کا او پی ڈیز کا مکمل بائیکاٹ جاری ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت سندھ کے ساتھ ڈیڈلاک برقرار ہے۔
رہنما وائی ڈی اے نے کہا کہ کانٹریکٹ پر بھرتی تمام ڈاکٹرز کو مستقل کیا جائے، پی جیز کا رزق الاؤنس دیا جائے اور پیڈ ڈیپوٹیشن جاری کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہمارے زیر التوا مسائل کو حل کرنے اور ہمارے جینیون مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم سخت اقدامات پر مجبور ہیں۔
ترجمان نے اپنے مطالبات میں بتایا کہ 500 سرجنز کی بھرتی کا اعلان کیا جائے۔ پی جیز اور ہاؤس آفیسرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا گیارہ ماہ کا رسک الاؤنس جاری کیا جائے اور ادا شدہ ڈیپوٹیشن پالیسی اور سنٹرل انڈکشن پالیسی نافذ کی جائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ رسک الاؤنس کو مستقل ہونا چاہئے، اس کے ساتھ ٹرانسفر کے مسائل کو بھی حل کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکو لیگل کیڈر کا اعلان مینجمنٹ کیڈر کے طور پر کیا جائے اور بلدیہ کے زیرانتظام ہسپتالوں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج تیسرے روز بھی ہڑتال کے باعث سول ہسپتال سمیت تعلقہ ہسپتالوں میں او پی ڈیز کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے جب کہ سول اسپتال کی او پی ڈی کے باہر بھی ینگ ڈاکٹرز کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔
او پی ڈیز کے مسلسل بائیکاٹ سے دورسے آئے شہری مزید پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

Square Adsence 300X250