Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

نگران حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات کی بدولت ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن

Now Reading:

نگران حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات کی بدولت ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن
نگران حکومت

نگران حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات کی بدولت ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن

نگران حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات کی بدولت ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

تفصیلات کے مطابق سال 2023 کی پہلی ششماہی میں پاکستان اقتصادی ڈیفالٹ کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا لیکن آج نگران حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات کی بدولت ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔

مثبت اقدمات کی بدولت ملکی معیشت کے مثبت اشاریے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

مالی سال 2023 کے دوران پاکستان نے مثبت معاشی اشاریوں کی ایک لہر دیکھی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیوں کے ساتھ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔

پاکستان کے بہتر معاشی حالات کو تسلیم کرتے ہوئے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری کے ساتھ خاطر خواہ مدد بھی فراہم کی۔

Advertisement

سال کے آخری روز پاکستان اسٹاک ایکسیچنج میں کاروباری انڈیکس 62 ہزار 512 پوائنٹس کی سطح پر رہا اس طرح رواں سال اب تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 22 ہزار 92 پوائنٹس کا اضافہ ہوا یا 54.65 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔

رواں سال ہی 10 دسمبر کو کے ایس ای ای 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 66 ہزار کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔

رواں سال 3 نومبر کو ساڑھے چھ سال کے بعد انڈیکس 53 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کر گیا تھا جبکہ 7 دسمبر کو پی ایس ایکس بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار 64 ہزار کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال 2023 میں 2472 ارب روپے کا کاروبار ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2562 ارب روپے سے بڑھ کر 9062 ارب روپے ہو گئی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں سال میں 79 ارب 48 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے سال 2023 میں سب سے زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق رواں برس اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری دیگر تمام شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ منافع بخش ثابت ہوئی۔

Advertisement

رواں سال اکتوبر میں پاکستانی اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین مارکیٹ کے طور پر سامنے آئی جبکہ جولائی تا اکتوبر کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ہدف سے زیادہ ٹیکس اکٹھے کئے۔

دسمبر میں پاکستانی کپاس کی پیداوار 8 ملین بیلز رہی جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 74 فیصد زیادہ ہے۔

صرف دو ماہ قبل ڈالر کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ چکی تھی جس کے بعد حکومت نے کرنسی کے غیر قانونی کاروبار اور سمگلنگ کو روکنے کیلئے عسکری قیادت کے تعاون سے کریک ڈاؤن شروع کیا۔

اب سال کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 281 روپے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 283 روپے تک پہنچ چکا ہے جو بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ جاری مثبت اقدامات کے باعث ڈالر 250 روپے تک آجائے گا۔

صرف دو ماہ قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھیں، پیٹرول 331 روپے جبکہ ڈیزل 329 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

حکومت کی جانب سے مثبت اقدامات کے باعث جہاں اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئی اور ڈالر کی قیمت میں نمایاں گراوٹ دیکھنے کو ملی وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی، تین ماہ کے دوران پیٹرول فی لیٹر 64 روپے 4 پیسے جبکہ ڈیزل 52 روپے 99 پیسے سستا ہو چکا ہے۔

Advertisement

ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 85 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 85 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اضافے کے بعد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مجموعی طور پر 12 ارب 85 کروڑ 57 لاکھ ڈالر تک جا پہنچے۔

ماہرین کے مطابق طویل عرصے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تسلی بخش سطح پر پہنچے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 2024 کے مالی سال میں افراط زر کی شرح کم ہو کر تقریباً 20 سے 22 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

حکومت اور عسکری قیادت بالخصوص آرمی چیف کی جانب سے ملٹری ڈپلومیسی نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودی آرامکو دنیا کی سب سے بڑے سنگل ہائیڈرو کاربن نیٹ ورک کی مالک کمپنی ہے، اس کمپنی کی جانب سے گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ میں 100 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے 40 فیصد شیئرز خریدے ہیں، کہا جاتا ہے کہ جب آرامکو سرمایہ کاری کرتی ہے تو دنیا اس کا نوٹس لیتی ہے۔اسی طرح وافی انرجی سعودی عرب کی مشہور کمپنی ہے جس کا کام فیول سٹیشنز کی دیکھ بھال کرنا ہے، اس کمپنی نے شیل پاکستان کے زیادہ تر شیئرز خرید لئے ہیں۔

Advertisement

اتصلات موبائل سروس مہیا کرنے والی دنیا کی 18 ویں بڑی کمپنی ہے جس نے 108 ارب ڈالر میں ٹیلی نار پاکستان لمیٹڈ کے 100 فیصد حصص خرید لئے ہیں۔ شنگھائی الیکٹرک گروپ کمپنی پاور جنریشن اور الیکٹرک سامان کی تیاری میں ماہر سمجھی جاتی ہے، اس کمپنی نے تھرکول پاور پراجیکٹ کو دو ارب ڈالرز پر کلوز کیا ہے۔

ان تمام معاہدوں اور مثبت اقدامات سے یہ مکمل طور پر واضح ہو رہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ماحول سازگار ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

پاکستان میں مستقبل کے کاروباری حالات کے متعلق حیرت انگیز طور پر 61 فیصد کاروباری اداروں نے مثبت توقعات کا اظہار کیا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں 3.3 فیصد کا قابل ذکر اضافہ دیکھا، جس سے عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں پاکستان کے لیے امید افزا اقتصادی پیش رفت کی پیشین گوئی کی ہے جو کہ 2024 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

چین اور پاکستان نے تجارت، مواصلات، ٹرانسپورٹ، فوڈ سیکیورٹی، میڈیا، شہری ترقی، صلاحیت کی تعمیر، موسمیاتی تبدیلی اور ویکسین کی تیاری کے معاہدوں کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط کیا۔

Advertisement

نگران وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کے اقدامات نے بلاشبہ ڈیفالٹ ہوتی ہوئی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
امن کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، امیرمقام
بیرون ملک پناہ لینے والے پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر آگئی
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے حکومت کا شاندار اقدام
حکومت کی تمام تر توجہ غریب عوام کو ریلیف دینے پر مرکوز ہے، مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب کا چکن کی مصنوعی مہنگائی پر اظہار تشویش
بیرون ملک پناہ لینے والوں کے پاسپورٹ معطل کرنے کا سرکلر واپس لینے کا فیصلہ
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر