Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

سپارک کا 10اسٹک والے سگریٹ پیک کی منظوری کے معاملے پر اظہارِ تشویش

Now Reading:

سپارک کا 10اسٹک والے سگریٹ پیک کی منظوری کے معاملے پر اظہارِ تشویش
سپارک

سپارک کا 10اسٹک والے سگریٹ پیک کی منظوری کے معاملے پر اظہارِ تشویش

سماجی کارکنان نے تمباکو کی صنعت کی طرف سے بیرون ملک ایکسپورٹ کرنے کے بہانے سے 10 اسٹک والے سگریٹ کے پیک کی تیاری کے لیے منظوری حاصل کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

سوسائٹی فاردی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی طرف سے مشترکہ پریس ریلیز میں سماجی کارکنان نے ملک بھر میں بچوں اور کم آمدنی والے گروہوں پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ملک عمران احمد کنٹری ہیڈ آف کمپین فار ٹوبیکو فری کڈزنے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کی صنعت برسوں سے سنگل سٹکس کی فروخت پر پابندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے جو نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے اور کمزورآبادی کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔

تمباکو کمپنیوں کی جانب سے ایکسپورٹ کی آڑ میں 10 اسٹک پیک تیار کرنے کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششیں، صحت عامہ اور پاکستانی نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں کیونکہ تمباکو کمپنیوں کا اصل مقصد ان کو نوجوانوں کو بیچنا ہے جو زائد اسٹک والی پیکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کی صنعت نے ماضی میں بھی ایسی ہی کوششیں کی تھیں لیکن وزارت صحت نے این او سی جاری نہیں کیا۔ تمباکو کی صنعت کی طرف سے 10 اسٹک پیک کے لیے درخواست انتہائی پریشان کن ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو کے کنٹرول میں ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ان بچوں اور کم آمدنی والے افراد کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جائے گا جو تمباکو کے استعمال کے مضراثرات کا سب سے زیادہ خطرہ ہیں۔

Advertisement

ملک عمران کا مزید کہنا تھا کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی ہے میں ملوث ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایک ہی برانڈ کے نئے ورژن نمایاں طور پر کم قیمتوں پر متعارف کرائے گئے ہیں جو ایک پریشان کن بات ہے۔

قوانین کے مطابق سگریٹ کا کوئی بھی مینوفیکچرر یا درآمد کنندہ سگریٹ برانڈ کا کوئی بھی ایسا نیا ورژن متعارف یا فروخت نہیں کر سکتا ہے جس کی قیمت اسی برانڈ فیملی میں موجود سگریٹ برانڈ سے کم رکھی گئی ہو۔اس کے باوجود پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے ایک نیا برانڈ کپسٹن انٹرنیشنل لانچ کیا ہے جس کی قیمت 164 روپے ہے جو اس کے موجودہ فیملی برانڈ جس کی قیمت 212 روپے ہے۔

یہ اقدام نہ صرف ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ سگریٹ کو مزید سستا بنانے میں بھی کردارادا کرتا ہے۔

سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدام کے پاکستان میں صحت عامہ کی کوششوں پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ میں 10 اسٹک پیک کی فروخت کی اجازت دینے سے تمباکو کے استعمال کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور اس کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں کی گئی پیشرفت رک جائے گی۔

یہ قدام ٹیکس اورریگولیشن کے ذریعے تمباکو کے استعمال کو روکنے کی حکومتی کوششوں سے براہ راست متصادم ہے۔

Advertisement

کارکنوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ 10 اسٹک پیک کی تیاری یا فروخت کی اجازت نہ دے اور تمباکو کی صنعت کے ذریعے بچوں اور کم آمدنی والے گروہوں کے استحصال کو روکے۔

انہوں نے موجودہ ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے اورصحت عامہ کے تحفظ کے عزم پر زور دیا۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
عزمِ استحکام آپریشن کو متنازع بنانا مافیا کی چال ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی ضروری ہے، کنٹریکٹس پبلک کئے جائیں؛ عاطف اکرام
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور عمان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کے گیٹ کے باہر اسمبلی لگالی
سال 2024 کی پہلی ششماہی کے دوران بینک صارفین کو 68 کروڑ کا ریلیف
خلیل الرحمن قمر کو جھانسہ دینے والی ملزمہ کا بیان سامنے آگیا
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر