Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

بجٹ کا 64 فیصد قرض کی ادائیگی پر خرچ ہوا، وزارت خزانہ

Now Reading:

بجٹ کا 64 فیصد قرض کی ادائیگی پر خرچ ہوا، وزارت خزانہ
بجٹ کا 64 فیصد قرض کی ادائیگی پر خرچ ہوا، وزارت خزانہ

بجٹ کا 64 فیصد قرض کی ادائیگی پر خرچ ہوا، وزارت خزانہ

وزارت خزانہ نے  رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار جاری کر دیئے جس کے مطابق چھ ماہ میں قرض کی ادائیگی پر بجٹ کا 64 فیصد خرچ ہوا۔

دستاویز کے مطابق قرض کی ادائیگی پر اخراجات بڑھنے کی وجہ بلند شرح سود ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سود کی ادائیگی پر 2.6 ٹریلین روپے خرچ ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت اسی عرصے کے دوران قرض کی ادائیگی پر 65 فیصد زائد خرچ ہوئے۔

وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے دوران قرض اور سود کی ادائیگی کے لئے 7.3 ٹریلین روپے مختص کر رکھے ہیں اس کے علاوہ قرض اور سود کی  ادائیگی پر بجٹ کا 58 فیصد مختص ہے۔

دستاویز کے مطابق مقامی اور بین الاقوامی ادھار کا 80 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سود کی ادائیگی جاری اخراجات کا 65.3 فیصد کے برابر ہے۔

Advertisement

اسی طرح مقامی قرض کی ادائیگی پر 3.72 ٹریلین، جبکہ بیرونی قرض کی ادائیگی پر 502 ارب روپے خرچ ہوئے، اس کے علاوہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص 950 ارب سے صرف 158ارب روپے خرچ ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کو مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ترقیاتی پروگرام پر 50 فیصد خرچ کرنا ہوتا ہے تاہم وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 2.7 ٹریلین یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر ہو گیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں مالی خسارہ 1.78 ٹریلین یا جی ڈی پی کا2.1 فیصد تھا جبکہ  صوبوں کا کیش سرپلس 289 ارب روپے رہا جو گذشتہ سال 101ارب روپے تھا۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ مالی خسارے کا 77 فیصد مقامی ذرائع سے پورا کیا گیا، اس کے علاوہ جولائی سے دسمبر 2023 کے دوران وصولیوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا۔

وزیر خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس سے آمدن میں 30 فیصد اور نان ٹیکس آمدن میں117فیصد اضافہ ہوا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی مجموعی آمدن چار ٹریلین سے زیادہ رہی۔

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی آمدن گزشتہ سال 2.5 ٹریلین روپے تھی، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پرائمری سرپلس 1.8ٹریلین روپے رہا۔

Advertisement

رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ایف بی آر کی آمدن 30 فیصد اضافے سے 4.5 ٹریلین روپے رہی، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران نان ٹیکس آمدن 66.8 فیصد سے زیادہ بڑھی، اس کے علاوہ سول حکومت اور دفاعی امور کے لئے مختص بجٹ کا 42 فیصد خرچ ہوا۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
گورنرسندھ کاسانگھڑ میں بااثر وڈیرے کے ظلم کے شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان
شرجیل میمن کی ہدایات پر اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف کارروائیاں جاری
نان فائلرز کے فون اور انٹرنیٹ پر 75 فی صد ٹیکس کی منظوری
پی این ایس بابر کی پاک ترک بحریہ مشترکہ مشق میں شرکت
حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بیک ڈور چینل رابطے جاری
وزیراعظم کی قطر کے امیر کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر