Site icon بول نیوز

افغان سرزمین سے تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملہ انتہائی تشویشناک ہے، پاکستان

2025 میں طالبان کے بجٹ کا نصف حصہ نام نہاد سیکورٹی پر خرچ - ورلڈ بینک کی رپورٹ جاری

پاکستان نے تاجکستان میں چینی شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان پر دہشت گرد حملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا۔

ترجمان دفترخارجہ نے تاجکستان میں دہشت گرد حملے میں 3 چینی شہریوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا، انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پر پوری عالمی برادری کو تشویش ہے، حملے میں ڈرون کے استعمال سے خطرے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

 ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیاکہ تاجکستان، چین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے، چینی اور  تاجک عوام کے دکھ کو  پاکستان پوری طرح سمجھتا ہے، پاکستان بھی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان سرزمین سے تاجکستان پر ڈرون حملہ ، 3 چینی شہری ہلاک

ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کی میزبانی افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری ہے،   افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی اور  قابل تصدیق کارروائی ضروری ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیاکہ پاکستان، چین اور  تاجکستان کے ساتھ علاقائی امن و سلامتی کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ افغانستان سے تاجکستان کی سرحد پر ڈرون حملے میں 3 چینی شہری ہلاک ہوگئے ہیں، تاجک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے تاجکستان کے جنوب میں ایک چینی کمپنی پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

Exit mobile version