Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان میں چلنے والے سوشل میڈیا کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی
ہاتھ ہیں۔

25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، تاہم مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے  گمراہ  کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے، بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے۔

انکا کہنا تھا کہ پنجاب اور  سندھ کے برعکس خیبرپختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اسکے برعکس افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہے جو گورننس  کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جس کی سہولت کاری فتنہ آل خوارج کرتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہے تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں  کی قیادت موجود ہے، وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے ان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوج اور غیرقانونی افغان باشندے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، پاکستان کے اس مؤقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟

‏ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے خصوصی انسپکٹر جنرل (ایس آئی جی اے آر) کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقتNon State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کے مختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہیے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری  سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے، خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمارے لیے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لیے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا، ہمیشہ حق باطل پر غالب آتا ہے، ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتحیاب ہوتا ہے۔

‏ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے عمل کے تحت 2024 میں 366,704 جبکہ 2025 میں 971,604 افراد کو واپس بھیجا جاچکا ہے، صرف رواں ماہ یعنی نومبر کے دوران 239,574 افراد کو واپس بھیجا گیا، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنےوالی قیادت کی اجارہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے، جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں, 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس- 400کی بیٹریاں تباہ ہوجائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی، سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہاکہ کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانے والے ایکس اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں۔

‏ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہے کہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیر قانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے

انہوں نے کہا کہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آچکی ہے، ایران سے اسمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جاچکا ہے جو کہ  بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے۔

‏ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہاکہ بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کررہے ہیں، اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جس کے بہت دور رس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں