Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ سرحد پار دہشتگردی روکے ، اسحاق ڈار

افغانستان میں امن خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، نائب وزیراعظم

افغانستان سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ سرحد پار دہشتگردی روکے۔  نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے ماسکو، برسلز اور بحرین کا دورہ کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ روس، یورپی یونین نے بھی افغانستان سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ  ہمارا افغانستان سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون سے متعلق کیاکہا؟

ان کا کہناتھاکہ ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم اور ہیڈ آف گورنمنٹ کی میٹنگ ہوئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔

انہوں  نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے غربت کے خاتمے، علاقائی معاشی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جامع تجاویز پیش کیں۔

ماسکو میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان معیشت، تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ لنکیجز، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر، انسانی ہمدردی اور ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے کی سفارشات رکھی ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے رکن ممالک کے درمیان مقامی کرنسیوں میں باہمی ادائیگیوں کو فروغ دینے کی تجویز دیتے ہوئے ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک، ڈیولپمنٹ فنڈ اور انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کی حمایت کی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہاکہ علاقائی سیاست کے تناظر میں پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ تمام ممالک ایک جامع مکالمے کا آغاز کریں تاکہ خطے کے تمام مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔

افغانستان میں استحکام پورے خطے کے امن کے لئے ناگزیر قرار

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام پورے خطے کے امن و ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ  اسی بنیاد پر پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے تمام رکن ممالک کے درمیان مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اجلاس کے اختتام پر 11 فیصلوں کی منظوری دی گئی جبکہ اقتصادی تعاون کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل کے دوران چین میں ہونے والے ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کی طرز پر ماسکو میں بھی صدر ولادیمیر پیوٹن نے تمام وفود کے سربراہوں اور وزرائے خارجہ کو کریملن میں مدعو کیا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ 18 نومبر کو کریملن میں صدر پیوٹن سے ملاقات کے دوران انہوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور روسی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کے دوران ان کی ملاقات چینی وزیراعظم لی کیانگ، تاجکستان کے وزیراعظم اور بھارت کے وزیر خارجہ سے بھی ہوئی، جس میں باہمی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

متعلقہ خبریں