Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

کراچی ٹیسٹ: جب پاکستان نے ڈرامائی انداز میں میچ جیتا

Now Reading:

کراچی ٹیسٹ: جب پاکستان نے ڈرامائی انداز میں میچ جیتا
کراچی ٹیسٹ: جب پاکستان نے ڈرامائی انداز میں میچ جیتا

کراچی ٹیسٹ: جب پاکستان نے ڈرامائی انداز میں میچ جیتا

کراچی میں ہونے والے میچز کے واقعات تاریخ کے اوراقوں میں بھرے پڑے ہیں، ان ہی میں سے آج ایک دلچسپ واقعہ ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں۔

یہ واقعہ ہے 1994 کا جب آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر موجود تھی اور کراچی میں دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ جاری تھا۔

ٹیسٹ میچ دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب آسٹریلیا کو جیت کے لیے صرف ایک وکٹ درکار تھی اور دوسرے اینڈ پر انضمام الحق وکٹ پر موجود تھے جو پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھا رہے تھے۔

Advertisement

انضمام الحق کا سامنا اس وقت کے ورلڈ کلاس لیگ اسپنر شین وارن جیسے بولرز سے تھا جو پہلے ہی اس میچ میں 8 وکٹیں لے چکے تھے۔

شین وارن کی نظریں اب آخری وکٹ پر تھیں جسے حاصل کرکے وہ آسٹریلیا کو یادگار فتح دلوانے کے لیے بے تاب تھے۔

پاکستان کے نو کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے جبکہ پاکستان کی نویں وکٹ وقار یونس کی تھی جو آؤٹ ہوکر پوویلین لوٹے تو آخری بیٹسمین لیگ اسپنر مشتاق احمد بیٹنگ کرنے کریز پر پہنچے۔

مشتاق احمد کا نجی خبر رساں ادارے سے ستائیس سال پرانی یادیں تازی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ اب صرف ایک گیند کی کہانی تھی اور آخری وکٹ کسی بھی وقت گر سکتی تھی‘۔

مشتاق احمد کہتے ہیں میں نے میچ کی صورت حال دیکھتے ہوئے مذاقاً انضمام سے کہا کہ، انضی شین وارن بہت اچھی بولنگ کررہا ہے لہذا مجھے اس کی بولنگ کھیلنے دو اور تم دوسرے بولرز کو کھیلو۔

Advertisement

وہ کہتے ہیں میری یہ بات سن کر انضمام مسکرائے اور جواب دیا کہ بیٹسمین میں ہوں یا تم؟ خیر یہ مزاق اپنی جگہ ہماری پارٹنر شپ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہی۔

مشتاق احمد بتاتے ہیں کہ ابتدا میں انضمام الحق نے ان کو بولنگ سے دور رکھا لیکن جب میں نے شین وارن کو دو چوکے لگائے تو انہیں مجھ پر بھروسہ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ آخر میں شین وارن نے فیلڈنگ آن سائیڈ سے ہٹا کر آف سائیڈ پر کردی اور انضمام الحق کو یہ تاثر دینے کی کوشش کہ آن سائیڈ خالی ہے لہٰذا آپ اس جانب کھیل سکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں اور انضمام الحق جیت کے لیے جذباتی ہوگئے تھے اور جلد از جلد تین رنز بنا کر میچ ختم کرنا چاہتے تھے۔

مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ شین وارن کی وہ آخری گیند لیگ بریک تھی جس پر انضمام الحق نے دیکھا کہ لیگ سائیڈ پر کھلا ایریا ہے لہذا وہ سوچنے لگے کہ اگر میں آرام سے فلک کروں گا تو دو تین رنز بن جائیں گے اور چوکا بھی ہوسکتا ہے لیکن ُاس گیند پر انضمام الحق بیٹ ہوگئے۔

Advertisement

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت قسمت اچھی تھی کہ گیند ای این ہیلی کے گلوز میں بھی نہیں آئی اور بائی کے چوکے نے ہمیں ڈرامائی جیت سے ہمکنار کردیا تھا۔

Advertisement
Advertisement
مزید پڑھیں

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
انگلینڈ نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
پاکستان کے ارحم بن فرخ نے ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل حاصل کرلیا
فرانسیسی اسٹار فٹبالر امباپے ریال میڈرڈ کا حصہ بن گئے
سری لنکن کرکٹر کو  گولی مارکر ہلاک کردیا گیا
ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی پلیئرر رینکنگ جاری، بابر اور شاہین شامل
پاکستان کا دورہ نیوزی لینڈ کے لیے شیڈول جاری
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر