گوہاٹی: ایک لفظ “گروول” نے 1976 میں ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل کر دیا، ثابت کر دیا کہ توہین بھی تحریک بن سکتی ہے۔
1976 میں انگلینڈ کے دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران انگلینڈ کے کپتان ٹونی گریگ نے اعلان کیا کہ وہ ویسٹ انڈیز کو “گروول” کروائیں گے۔
یہ بیان کرکٹ کے میدان میں توہین کے طور پر لیا گیا اور نسلی حساسیت کا سبب بھی بنا، کیونکہ اس نے غلامی اور استعماری ماضی کی یاد تازہ کر دی۔
مزید پڑھیں: شائقین کیلیے خوشخبری، ایشین گیمز، پین ایم اور اولمپک گیمز میں کرکٹ ایونٹ شامل
لیکن ویسٹ انڈیز کے کپتان کلیو لوئیڈ نے اس توہین کو تحریک کا ذریعہ بنایا۔ 1973-74 میں انگلینڈ کے خلاف سیریز 1-1 رہی تھی اور آسٹریلیا نے انہیں 5-1 سے شکست دی تھی، جس سے لوئیڈ نے یہ سبق لیا کہ فاسٹ بولنگ ہی مستقبل کی کنجی ہے۔
1976 تک انہوں نے انڈی رابرٹس، مائیکل ہولڈنگ، وین ڈینیئل اور وین برن ہولڈر کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا اور اسپنرز کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔
گریگ کا اندازہ غلط نکلا اور “گروول” کا لفظ ویسٹ انڈیز کے لیے حوصلہ بن گیا۔
کھلاڑیوں نے اسے واقعی میں توہین سمجھا اور ویون رچرڈز نے کہا: “وہ چاہتے تھے کہ ہم اپنے گھٹنے ٹیک کر رحم کی درخواست کریں۔”
یہ توہین ان کے لیے حوصلے کا ذریعہ بنی اور ٹیم متحد ہو گئی۔
مزید پڑھیں: کرکٹ میچ کے نتائج کی پیشن گوئی کے 5 مؤثر طریقے
نتیجہ؟ ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو 3–0 سے شکست دی اور تیز بولنگ اور زبردست بیٹنگ کے ذریعے عالمی کرکٹ پر راج کیا۔ یہ سیریز ویسٹ انڈیز کے عروج کی ابتدا تھی، جہاں ایک لفظ نے توہین کو تاریخ ساز کامیابی میں بدل دیا۔
سالوں بعد، اسی لفظ کی بازگشت ساؤتھ افریقہ کے کوچ شکری کونراڈ کے بیان میں ہوئی، جنہوں نے گوہاٹی میں بھارت کے خلاف جیت کے بعد کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت “گروول” کرے۔
یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح کرکٹ میں ایک لفظ حوصلہ اور اتحاد پیدا کر سکتا ہے۔

