ہندو طلبہ کی مسلمان پروفیسر کو برطرف کرنے کے لیے خصوصی پوجا

ویب ڈیسکویب ایڈیٹر

15th Nov, 2019. 11:17 pm
ہندو

بھارتی شہر بنارس میں واقع ہندو یونی ورسٹی کے طلبہ ان دنوں ایک مسلمان پروفیسر کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان استاد سنسکرت  کی تعلیم نہیں دے سکتا۔

تفصیلات کے مطابق ہندو یونیورسٹی کے ہندو طلبہ شعبۂ سنسسکرت میں ایک مسلمان پروفیسر فیروز خان کی تقرری کے خلاف گذشتہ ایک ہفتے سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو ہندو مذہب کی تعلیم نہیں دے سکتا ہے۔ وہ پروفیسر فیروز کی تقرری منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ہندو یونی ورسٹی کے وائس چانسلر نے پروفیسر فیروز کی تقرری کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرفیسر فیروز تمام امیدواروں میں سب سے قابل پروفیسر ہیں اور مذہب کے نام پر ان کے ساتھ تفریق نہیں برتی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے ایک ریسرچ سکالر شبھم تیواری کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو دھرم اور سنسکرت کی تعلیم نہیں دے سکتا ہے۔

پروفیسر فیروز خان

ہندو یونی ورسٹی کے طلبہ  نے مسلمان پروفیسر کی تقرری منسوخ کرانے کے لیے یگیہ یعنی خصوصی پوجا  کا بھی انعقاد کیا۔

احتجاج پر مائل طلبہ کالج میں نصب ایک کتبے میں ہندو یونیورسٹی کے بانی کے ایک قول کا حوالہ بھی دے رہے ہیں جس میں لکھا ہوا ہے کہ سنسکرت کالج میں غیر ہندو مذہب کے کسی شخص کو یہاں پڑھنے اور تعلیم دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ فیروز خان کا تعلق راجستھان سے ہے۔ انھوں نے سنسکرت میں پی ایچ ڈی کیا ہے اور ان کا شمار ہندوستان میں سنسکرت کے بہترین اساتذہ میں سے ہوتا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا  بھی یہی موقف ہے کہ وہ سبھی امیدواروں میں سب سے بہتر تھے۔ یونیورسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضابطے کے مطابق مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں برتی جا سکتی۔

یونیورسٹی کے پراکٹر ڈاکٹر رام نارائین دیویدی نے بتایا کہ پروفیسر فیروز خان کی تقرری ‘پوری طرح ضابطوں کے تحت کی گئی ہے۔ طلبہ یہاں ہنگامہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھ نہیں رہے ہیں کہ ان کا انتخاب ضابطے کے تحت ہوا ہے۔ طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے  پروفیسر فیروز خان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ طلبہ ان کی تقری کے خلاف احتجاج ترک کر دیں گے اور انھیں یہاں پڑھانے کا موقع دیا جائے گا۔

Adsence 300X250