عدالت نے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی حوالگی کی امریکی درخواست مسترد کردی


سید قاسم رضاویب ایڈیٹر

04th January, 2021
Square ad 300 x 250

برطانوی عدالت نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ کو حوالگی کی درخواست  مسترد کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  اولڈ بیلی کی عدالت نے امریکہ کی وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی کی درخواست مسترد کردی ۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ جولین اسانج کی دماغی صحت اس قابل نہیں کہ انہیں امریکہ کے حوالے کریں۔

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے7 برس لندن میں ایکویڈورکے سفارتخانے میں بطورسیاسی پناہ گرین گزارے اور امریکہ نے ان کی حوالگی کے لیے برطانوی عدالت میں دائر درخواست پر 2007ءکے بعد وار کرائمز کی تفصیلات چھاپنے ، جاسوسی اور ہیکنگ سمیت مختلف قسم کے 18الزامات عائد کیے تھے ۔

جولین اسانج کی امریکہ سپردگی پر انہیں 175سال قید کی سزا متوقع تھی۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جولین اسانج نے آٹھ سال اسیری کی زندگی گزاری، پچھلے ہفتے عدالت کو بتایا گیا تھاکہ انہیں وٹامن ڈی بھی نہیں ملا ، وہ جس طرح کے حالات میں رہے ،ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ الیگزینڈریا میں اسکرونٹی کے حالات سے گزرسکیں ۔

برطانوی عدالت کے اس فیصلے کو تاریخی رولنگ قراردیاجارہاہے کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان معاہدہ موجود ہے ، یہی امکان ظاہر کیا جارہاتھاکہ معاہدوں کی وجہ سے جولین اسانج کو امریکہ کے سپرد کردیاجائے گا لیکن عدالت نے قراردیا ہے کہ تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جولین اسانج کو امریکہ نہیں بھیجا جاسکتا۔

دوسری طرف امریکی حکام نے کہا ہے کہ فیصلے پر اپیل کی جائے گی۔