امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ 28 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ سامنے آگیا ہے، جس کا انکشاف الجزیرہ سمیت عالمی میڈیا اداروں نے کیا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق یہ منصوبہ یوکرین کو ہتھیار ڈالنے اور روس کے زیر قبضہ علاقوں سے دستبرداری کی تجویز پر مشتمل ہے، تاہم منصوبے کا امریکہ کی جانب سے اب تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
فنانشنل ٹائمز کا کہنا ہے کہ مجوزہ امن فارمولا روس کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے اور اسے صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے “خاصا سازگار” قرار دیا جارہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا نے اس منصوبے سے متعلق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ذریعے آگاہ کیا جبکہ یوکرینی حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں جانب سے سنجیدہ اور حقیقی تجاویز کی ضرورت ہے، ایسا حل نکالا جانا ضروری ہے جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بن سکے۔
مزید پڑھیں: بھارت نے روسی تیل کی خریداری محدود نہ کی تو بھاری ٹیرف ادا کرنا پڑے گا، ٹرمپ



















