ہانگ کانگ میں بلند عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی تباہ کن آگ نے تباہی کی نئی تاریخ رقم کر دی، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 128 ہو گئی ہے۔
یہ شہر میں گزشتہ 70 برس کا بدترین سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آگ میں 79 افراد زخمی جبکہ درجنوں اب تک لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق آگ کی تیز رفتاری کی بڑی وجہ کھڑکیوں کے باہر لگایا گیا پولی اسٹائرین اور آتش گیر حفاظتی جال تھا، جس نے شعلوں کے پھیلاؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا۔
واقعے کے بعد 8 افراد کو کرپشن کے شبہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں انجینئرنگ کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور اسکیفولڈنگ سب کنٹریکٹرز شامل ہیں۔ اس سے قبل 3 افراد کو قتلِ خطا کے الزام میں حراست میں لیا جا چکا ہے۔
انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ یہ گرفتاریاں عمارتوں کی مرمت اور تعمیراتی کاموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث کی گئیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات 3 سے 4 ہفتوں میں مکمل کی جائیں گی۔
آگ کو بجھانے کے لیے 2,311 فائر فائٹرز نے حصہ لیا۔ آگ کو آج صبح مقامی وقت کے مطابق 10:18 پر مکمل طور پر بجھا دیا گیا۔
تاہم فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق شعلوں کی شدت 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی تھی، جس کے باعث کئی مقامات پر آگ دوبارہ بھڑک اٹھی۔
متاثرین میں 37 سالہ فائر فائٹر ہو وائی ہو بھی شامل ہیں جو دورانِ کارروائی لاپتہ ہوئے اور کچھ دیر بعد مردہ حالت میں ملے۔ مزید 12 فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 89 لاشیں تاحال شناخت طلب ہیں، جبکہ 16 لاشیں اب بھی عمارتوں کے اندر موجود ہیں۔
خاندانوں کی مدد کے لیے قریبی کمیونٹی ہال میں خصوصی مرکز قائم کر دیا گیا ہے جہاں رشتے دار تصاویر کے ذریعے گمشدہ افراد کی شناخت میں معاونت کر رہے ہیں۔
ہانگ کانگ حکومت نے متاثرہ شہریوں کے لیے شیلٹرز، امدادی مراکز اور ضروری اشیا فراہم کرنے کے لیے خصوصی کیمپ قائم کر دیے ہیں۔ سیکڑوں رضاکار امدادی سامان کی تیاری اور تقسیم میں حصہ لے رہے ہیں۔
سانحہ بدھ کی دوپہر شروع ہوا اور چند ہی گھنٹوں میں آتشزدگی انتہائی خطرناک درجہ اختیار کر گئی، آگ کے اس دلخراش واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے جبکہ حکام ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔

