کورونا وائرس اور یوکرین میں جنگ سمیت عالمی معیشت کو لگنے والے ‘غیر معمولی جھٹکوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی بینک کا کہنا تھا کہ 2030ء تک دنیا سے انتہائی غربت کے خاتمے کے دیرینہ ہدف کو پورا کرنے کا امکان نہیں ہے۔
5 اکتوبر کو جاری ہونے والی عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، کئی دہائیوں میں عالمی غربت کو اتنا بڑا دھچکا نہیں لگا تھا جتنا نقصان کووِڈ 19 نے پہنچایا اور اب خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں فوری بحالی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس سال غربت میں کمی کی کوششوں میں مزید کمی آئے گی کیونکہ یوکرین پر روس کے حملے، چین میں اقتصادی سست روی اور بڑھتی ہوئی افراط زر کے بعد عالمی ترقی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔
غربت اور مشترکہ خوشحالی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ”موجودہ رجحانات کے پیش نظر، 574 ملین لوگ (دنیا کی آبادی کا تقریباً 7 فیصد) 2030ء میں بھی 2 اعشاریہ 15 ڈالر یومیہ سے کم پر زندگی گزار رہے ہوں گے، جن میں سے زیادہ تر افریقہ میں ہیں۔”
ایک بیان میں، ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے ترقی کو فروغ دینے اور غربت کے خاتمے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے میں مدد کے لیے بڑی پالیسیوں میں تبدیلی پر زور دیا۔
انہوں نے مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور بیک وقت جاری وسیع تر بحرانوں کو انتہائی غربت میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ “انتہائی غربت کو کم کرنے میں پیش رفت بنیادی طور پر کم عالمی اقتصادی ترقی میں کمی کی وجہ سے رک گئی ہے۔”
ورلڈ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمیٹ گل نے کہا کہ موسمیاتی بحران سمیت کم ترقی یافتہ معیشتوں میں غربت کو کم کرنے میں ناکامی کے دنیا کی وسیع تر صلاحیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بھی ترقی کو محدود کرے گا، کیونکہ انتہائی غربت کی شرح کثیرآبادی والے ترقی پذیر ممالک کو عالمی منڈی میں اشیا کے بڑے صارف بننے سے روکے گی۔”اگر آپ ترقی یافتہ معیشتوں میں خوشحالی کی فکر کرتے ہیں، جلد یا بدیر آپ چاہتے ہیں کہ ان ممالک کے پاس بڑی منڈیاں ہوں، ہندوستان جیسے ممالک، چین جیسے ممالک،” گل نے کہا۔ “تو آپ کی یہ بھی خواہش ہونی چاہیے کہ یہ ممالک ترقی کریں تاکہ وہ طلب کے ذرائع بنیں نہ کہ صرف رسد کے۔”
ورلڈ بینک نے کہا کہ موجودہ دھارے کو تبدیل کرنے کے لیے، ممالک کو تعاون کو فروغ دینا چاہیے، وسیع سبسڈی سے گریز کرنا چاہیے، طویل مدتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور پراپرٹی ٹیکس اور کاربن ٹیکس جیسے اقدامات کو اپنانا چاہیے جس سے غریب ترین لوگوں کو نقصان پہنچائے بغیر آمدن بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تین ارب سے زیادہ افراد یومیہ 6 اعشاریہ 85 ڈالر سے کم پر زندگی بسر کرتے ہیں، جو کہ اعلیٰ متوسط آمدنی والے ممالک کی غربت کی لکیر کا اوسط ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پانچ سالوں میں غربت میں کمی پہلے ہی سست روی کا شکار رہی ہے جس کے بعد وبائی مرض کا سامنا کرنا پڑا، اور غریب ترین لوگوں نے واضح طور پر اس کی سب سے بڑی قیمت چکائی۔ عالمی بینک نے کہا کہ غریب ترین 40 فیصد لوگوں نے وبائی مرض کے دوران اوسط آمدنی میں 4 فیصد کا نقصان اٹھایا، جو کہ امیر ترین 20 فیصد لوگوں کے نقصانات کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی اخراجات اور ہنگامی امداد نے غربت کی شرح میں اضافے کو روکنے میں بھی مدد کی ہے لیکن اقتصادی بحالی ناہموار رہی کیونکہ کم وسائل کی حامل ترقی پذیر معیشتوں نے خرچ بھی کم ہی کیا، نتیجتاً ان کی آمدن بھی کم ہی رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب صحارا افریقہ کے ممالک انتہائی غربت کا مرکز بن گئے، جہاں غربت کی شرح تقریباً 35 فیصد ہے اور 60 فیصد انتہائی غربت میں مبتلا ہیں۔
گل نے کہا، “اگلی دہائی کے دوران، بہتر صحت اور تعلیم میں سرمایہ کاری ترقی پذیر معیشتوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔”
بشکریہ: الجزیرہ اور نیوز ایجنسیاں
Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News
Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News