بجٹ میں کس کو کتنا ریلیف ملا؟


سید قاسم رضاویب ایڈیٹر

13th June, 2020
بجٹ

وفاقی وزیر  برائے صعنت و پیداوار حماد اظہر  نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت  کی جانب سے اپنا دوسرا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 21-2020 قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے   نئے مالی سال 2020-21 کے لیے 71کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔

نئے بجٹ کے مطابق کون سی چیزیں سستی ہوں گی اور کون سی چیزیں مہنگی ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

 

سگریٹ اور انرجی ڈرنکس مہنگے

سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد جبکہ  کیفین والی  مشروبات ( انرجی ڈرنکس )پر 13 فیصد سے بڑھاکر  25 فیصد کردی گئی ہے جس سے ان کی قیمتوں  میں اضافہ ہوگا۔

 

موٹر سائیکل اور رکشا سستے

آٹو رکشہ، موٹر سائیکل رکشہ اور 2 سو سی سی تک کی موٹرسائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا جس سے ان کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔

 

ڈبل کیبن گاڑیاں مہنگی

وفاقی بجٹ میں ڈبل کیبن گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے جس سے ان گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا۔

 

زیادہ فیس والے اسکولوں پر دگنا ٹیکس

وفاقی حکومت نے بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کردیا  ہے۔سالانہ دو لاکھ روپے سے زائد فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس دینا پڑے گا۔

 

مقامی موبائل فون سستے

بجٹ میں مقامی سطح پر تیار  ہونے والے موبائل فون پر ٹیکس شرح کم  کردی گئی ہے جس سے قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

 

شناختی کارڈ  کے بغیر خرید و فروخت کی حد میں اضافہ

 شناختی کارڈ کے بغیر خرید و فروخت کی حد 50 ہزار  روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

 

دفاعی بجٹ

نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ 12 کھرب 89 ارب روپے مختص کیا گیاہے۔

 

تعلیمی بجٹ

وفاقی بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

ہوٹل انڈسٹری پر ٹیکس میں کمی

حکومت نے  ہوٹل  انڈسٹری پر 6 ماہ کے لیے ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کرنے کردی ہے۔

 

بجٹ خسارہ

نئے مالی سال کے بجٹ میں کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 7136 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ  مجموعی بجٹ خسارہ 3437 ارب روپے ہوگا۔