اسلام آباد: فنانس بل 2024-25 کی منظوری کے بعد بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے ٹکٹوں پر ٹیکسز کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں فنانس بل 2024-25 کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں ہوگیا ہے۔
یکم جولائی سے بین الاقوامی سفر کے لیے اکانومی اور اکانومی پلس ٹکٹ پر 12500 روپے ٹیکس دینا ہوگا۔ شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ کے سفر کے لیے بزنس، کلب اور فرسٹ کلاس ٹکٹ پر ٹیکس کی شرح ساڑھے تین لاکھ روپے کردی گئی ہے۔
یکم جولائی سے امریکہ اور کینیڈا کے لئے بزنس کلاس اور کلب کلاس ٹکٹ پر ٹیکس میں ایک لاکھ روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد بزنس اور کلب کلاس کے ٹکٹس ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے 3 لاکھ روپے کے ہوگئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سفر کے لیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس دینا ہوگا۔
یورپ کے فضائی سفر کے لیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10 ہزار، مشرق بعید، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فضائی سفر پر بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر دو لاکھ دس ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا۔
علاوہ ازیں چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت دیگر کے ٹکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 2 لاکھ 10 ہزار روپے ہوگئی ہے جب کہ دبئی، سعودی عرب، مڈل ایسٹ اور افریقی ممالک کے ٹکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں 30 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔




















