ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص عناصرضمنی انتخابات کومتنازع بنانےکی کوشش کررہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ این اے 18 ہری پورمیں ڈی آراو اور آراو کی تعیناتی قانونی اختیارکےتحت ہوئی، ڈی آراو اور آراو کی تعیناتی پرالزامات بےبنیاد اورحقائق کےمنافی ہیں، عام انتخابات میں عملےکی کمی کےباعث آراوزاورڈی آراوزکی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات میں ضرورت کےمطابق الیکشن کمیشن کےافسران تعینات کیےگئے، پولنگ ڈےسےپہلےکسی جماعت نےآراوزاورڈی آراوزپراعتراض نہیں اٹھایا، الیکشن ہارنےکےبعد الزامات لگاناافسوسناک ہے۔
ترجمان نے کہا کہ تنازعات کےحل کیلئےقانونی فورمزہیں، میڈیا پر الزام تراشی غلط ہے، آراو نے درخواست نہیں کی توفریقین کوالیکشن کمیشن سےرجوع کرناچاہیےتھا، فارم 45 پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی غلط اوربےبنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے شکایات کے ازالہ کیلئے مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کردیا
الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ضمنی الیکشن میں پریزائیڈنگ آفیسرز، عملہ صوبائی انتظامیہ نےفراہم کیاتھا، خیبرپختونخوامیں وفاقی ملازمین کولگاناچاہتےتولگاسکتےتھےمگرنہیں لگایا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ بیگزاورنتائج صوبائی عملےنےآراوکےدفترمیں جمع کروائے، ضمنی الیکشن میں سیکیورٹی بھی صوبائی حکومت نےفراہم کی، ہرانتخاب کےبعد ایک جیسےالزامات دہرانےکامقصد انتخابی عمل کومشکوک بناناہے۔
ترجمان نے کہا کہ الیکشن کےنتائج پراعتراض ہےتوفورم الیکشن ٹریبونل ہے، الیکشن کمیشن نےضمنی انتخابات آئین وقانون کےمطابق کرائے۔




















