وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور مختلف شعبوں میں پیشرفت بھی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ مکمل ہو چکا ہے جو معاشی استحکام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ فنانسنگ مستقبل کی اقتصادی ضروریات کے لیے نہایت اہم ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ادائیگیوں کے توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتری بنیادی تقاضا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کی مجموعی برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ آئی ٹی سیکٹر ہر ماہ بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔
ترسیلات زر میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کررہی ہے تاکہ ملکی معیشت میں کاروباری سرگرمیاں مزید وسعت اختیار کریں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کی ہدایت دے دی ہے اور اس کے خاتمے سے متعلق سمری کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے ملک کے قرضوں کی ادائیگی پر مثبت اثر پڑا ہے، جبکہ حکومت جلد پانڈا بانڈ کے اجراء کی تیاری مکمل کر رہی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئندہ ہفتے اہم اجلاس بھی متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو پاکستان فرسٹ ایجنڈے کو آگے لے کر چلنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات میں پیشرفت بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی محنت کو بھی انہوں نے سراہا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ معاشی بہتری کے تسلسل کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہم ملکی معیشت کو مستحکم و پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔



















