Advertisement
Advertisement
Advertisement
Advertisement

بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے

Now Reading:

بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے

چند ہفتے قبل ہماری وزیر اعظم نے بنگلہ دیش میں  آنے والے دنوں میں ممکنہ قحط  کے خدشے کا  ذکر کیا تھا۔حال ہی میں معدنی وسائل کے مشیر نے ہمیں مستقبل میں ممکنہ طور پر   دن بھر ہونے والی  بدترین لوڈشیڈنگ کے  حوالے سے بھی خبردار کیا ہے ۔ ملک  کو بدانتظامی، نااہلیوں ، بے تحاشا لوٹ مار اور  کرپشن کی وجہ سے پہلے ہی شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔تمام ادارے وزرا کی نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر  ہیں ۔ہمارا  انتخابی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،  جو سنگین جمہوری  نقصان  کی نشاندہی کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت   کی ناکامی کے آثار نمایاں ہیں ۔وقت  گذرنے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے استعمال کی چیزیں اس کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں ۔مہنگائی  نے   عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

ملک اگرچہ کافی عرصے سے  ہی مشکلات  کا شکار ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں    ان  مسائل  میں تیزی   سے اضافہ ہوا  ، جس کی وجہ سے اقتصادی اور سیاسی محاذوں پر ممکنہ طور پر  بدترین  بحران  کے خدشات نے سراٹھالیا   ہے۔بدقسمتی سے بڑھتے ہوئے مسائل کی بڑی وجہ حکمران جماعت کی بدانتظامی اور وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

2008 ء  کے  عام انتخابات سے پہلے عوامی لیگ نے اپنے  انتخابی منشور  ’دنبوڈولر سناد ‘یا’  تبدیلی کے لیے ایک چارٹر‘   میں  عوام سے  کئی   وعدے کیے  تھے ۔پارٹی نے ووٹروں کو یقین دلایا  تھا کہ ایک  ایسے جمہوری نظام کے بارے میں سوچا  گیا ہے جہاں لوگ اپنی حکومت کا انتخاب آزادانہ طور پر کرتے ہیں اور بغیر کسی پریشانی کے ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں،جہاں خوف   اورعدم  برداشت کی صورتحال نہ ہو، عوام  عزت و وقار  کے ساتھ  زندگی گذار سکیں ۔جہاں انسانی حقوق کی  مکمل پاسداری ہو  اور سب کو  مساوی مواقع   میسر ہوسکیں،   ماحولیاتی تحفظ کو بھی  یقینی  بنایا جاسکے ۔ ایسی جگہ جہاں صحیح معنو ںمیں قانون کی حکمرانی ہو۔ان تمام تصورات کے باوجود،  بنگلہ دیش نے 2014 ء  اور 2018 ء  میں دو ناکام انتخابات دیکھے، اور  اب ملک  میں ایک طرح سے  آمرانہ طرز حکومت  کو نمایاں طور پر  دیکھا جاسکتا ہے۔

ملک میں  بجلی  کے حالیہ سنگین بحران  کے پیش نظر، انتخابی  منشور دنبوڈولر سناد میں  توانائی کے شعبے کے لیے ایک جامع طویل مدتی پالیسی کا وعدہ  شامل ہے ، جس میں تیل، گیس، کوئلے، ہائیڈرو پاور، ونڈ پاور اور شمسی توانائی کے استعمال پر توجہ  دینے  پر غور کیاجارہا ہے۔اسی دوران  تیل اور گیس کے نئے شعبوں کی تلاش اور استعمال کو ترجیح دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے ۔اس کے باوجود، ماہرین  کا کہنا ہےکہ یوکرین جنگ   سے پیدا ہونے والی صورتحال کا سامنا نہ بھی ہوتا تب بھی،  ملک میں جاری  بدعنوانی اور  بدانتظامی  کی وجہ سےتوانائی کے شعبے میں حالیہ بحران  پیدا  ہونے  کا خدشہ پیدا ہوچکا تھا۔

عوامی  لیگ کے 2008 ء کے انتخابی منشور میں بدعنوانی کے خلاف موثر اقدامات  اٹھانے کا  وعدہ بھی   کیا گیا تھا۔اس بات  کا یقین دلایا گیا تھا کہ بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی اقدامات کیے جائیں گے۔طاقت ور افراد کو سالانہ  بنیادوں پر اپنے اثاثوں  اور دولت  کو ظاہر کرکے  ٹیکس جمع  کرانا ہوگا۔رشوت، بھتہ خوری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات  اٹھانے  کی یقین دہانی  کرائی گئی تھی ۔  یہ بھی کہا گیا تھا کہ   کالا دھن رکھنے والوں ، قرض نادہندگان، ٹینڈر میں ہیرا پھیری کرنے والوں اور ریاست میں  کسی  بھی مرحلے پر اپنے اثرو رسوخ  کو استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔اس کے بعد آنے والوں سالوں کے دوران حکومت نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس(غیر سماجی رویے کو قبول کرنے سے انکار) کا اعلان  تو کیا، لیکن ان سب کے باوجود  کرپشن  قابو سے باہر  ہوچکی ہے۔

Advertisement

 انتخابی منشوردنبوڈولر سناد میں  گورننس کے حوالے سےبڑے  بڑے   وعدے کیے گئے اور کہا گیا  کہ  ہم عدلیہ کی حقیقی آزادی اور غیر جانبداری کو یقینی بنا ئیں گے اور  ماورائے عدالت قتل  کو کسی طور پر قبول نہیں  کیا جائےگا۔بنگ بندھو قتل کیس کے فیصلے کو موثر بنایا جائے گا، اور جیل  میں ہونے والے قتل کا دوبارہ ٹرائل ہوگا۔21 اگست 2004 ء کے دستی بم حملے کے ذمہ دار حقیقی مجرموں کے خلاف مناسب تفتیش کے ذریعے ٹرائل کا اہتمام کیا جائے گا۔ایک اور وعدے کے مطابق قانون کی حکمرانی قائم کی جائے گی، انسانی حقوق کمیشن کو مضبوط اور موثر بنایا جائے گا، اور  ایک محتسب مقرر کیا جائے گا، جب کہ انسانی حقوق کو سختی سے نافذ کیا جائے گا، لیکن  دیکھا یہ گیا کہ حکومت  بنگ بندھو قتل کیس کے فیصلے پر عمل درآمد اور 2004 ء کے گرینیڈ حملے کی دوبارہ سماعت کے علاوہ اپنے تمام وعدوں سے مکر گئی ۔

انتخابی  منشور  دنبودولر سناد میں  یہ عہد  بھی کیا گیا  تھا کہ الیکشن کمیشن اور انتخابی نظام کا جاری اصلاحاتی پروگرام جاری رہے گا۔ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنایا جائے گا۔ملک کے  سیاسی کلچر میں شائستگی اور رواداری کو فروغ دیا جائے گا۔ عسکریت پسندی اور بھتہ خوری پر پابندی ہوگی۔عوامی لیگ   سیاسی طرز  عمل کی تشکیل کےلیے ایک متفقہ چارٹر کے لیے پہل کرے گی۔ان تمام  وعدوں کے  باوجودبنگلہ دیش میں سیاسی عدم برداشت اپنے  عروج پر ہے ، اس کے ساتھ ہی انتخابی نظام کو بنیادی طور پر تباہ کرنے والے  بعض متعصب افراد  پر الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے سنگین الزامات  عائد   ہیں۔

حکمراں  جماعت کے  انتخابی  منشورمیں  یہ  عزم بھی ظاہر کیا گیا کہ انتظامیہ کو سیاست  اور حامیوں سے آزاد کیا جائے گا ، ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر رکھا جائے گا۔ملک کی  فوج کو  وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید  سے جدید  تر بنایا جائے گا۔مگر بدقسمتی سے بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کھلم کھلا سیاست اب ہماری جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔جہاں تک مقامی حکومت کا تعلق ہے، انتخابی منشور  دنبودولر سناد  میں  عہد کیا گیا   تھا کہ یونین، ضلع اور ضلع کونسلوں کومتعدد مقامی دفاتر یا حکام کو منتقل کرکے  مزید مضبوط کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی ضلع کونسلوں کو تعلیم اور صحت کے پروگراموں اور دیگر تمام ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بحالی کے لیے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ شہرکے مختلف علاقوں کی ترقی اور انتظامیہ کے لیے ہر یونین کو ہیڈ کوارٹر بنایا جائے گا اور اسے ایک منصوبہ بند دیہی بستی کے طور پر تیار کیا جائے گا،لیکن وعدوں کے  برعکس،  بنگلہ دیش میں مقامی حکومتی ادارے تیزی سے غیر موثر، بدعنوان، اور بڑے پیمانے پر اہلکاروں کے ماتحت ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بالکل واضح  ہوچکا ہےکہ  بنگلہ دیش میں جمہوری خسارے اور حکمرانوں  کی ناکامیوں نے اس کا احتسابی ڈھانچہ  مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔قابل اعتماد انتخابات کے ذریعے عوام کے سامنے حکومت کے احتساب جب کہ  آزاد اداروں  کی جانب سے  چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے ذریعے جواب دہی  کے نظام کی یقین دہانی کرائی گئی ۔ملک میں معاشی اور سیاسی بحرانوں کے پیچھے نہ صرف احتسابی عمل میں ناکامی   کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی کا فقدان نمایاں   ہے،لیکن  یہ وجوہات  عالمی  وبا  کورونا  اور  روس یوکرین جنگ  کے باعث پیدا  ہونے والی صورتحال اورمسائل سے بھی  بڑی  اور اہم رکاوٹیں ہیں ۔

 حکومت آئی ایم ایف اور دیگراداروں  سے قرض لے کر بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے۔یقینی طور پر  حکام اقتصادی اصلاحات کے لیے کچھ شرائط سے اتفاق  کرلیں گے  ،  لیکن سیاسی اصلاحات کے بغیر معاشی اصلاحات  کی کوشش   بے سود ثابت ہوسکتی ہے۔

بشکریہ: ڈیلی اسٹار

Advertisement
Advertisement

Catch all the Business News, Breaking News Event and Latest News Updates on The BOL News


Download The BOL News App to get the Daily News Update & Live News


Advertisement
آرٹیکل کا اختتام
مزید پڑھیں
ٹرمپ نے عزی جنگ بندی کےلئے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کردیا
خواہش ہے ترکیہ روس سے تیل خریدنا بند کردے،غزہ جنگ بندی کے قریب پہنچ چکے،ٹرمپ
ایشیا کپ، پاکستان کی شاندار واپسی، بنگلا دیش کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی
صاحبزادہ فرحان اور دھونی کے اسٹائل میں مماثلت، مگر اعترض کیوں؟ گن سیلیبریشن اورکون کون کرچکا؟
بھارتیوں کو پھر مرچیں لگ گئیں، رونالڈو نے بھی حارث رؤف کے انداز میں رافیل گرایا، ویڈیو وائرل
آئندہ سیاسی گفتگو نہ کریں ، سوریا کمار کو آئی سی سی کی ہدایت ، حارث رئوف اور صاحبزادہ فرحان کی بھی طلبی
Advertisement
توجہ کا مرکز میں پاکستان سے مقبول انٹرٹینمنٹ
Advertisement

اگلی خبر