Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وینزویلا کا ٹرمپ کے فضائی حدود سے متعلق انتباہ پر شدید ردِعمل

 کاراکاس : وینزویلا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فضائی حدود کو “بند سمجھنے” کے انتباہ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے نوآبادیاتی دھمکی قرار دیا ہے۔

وینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کا انتباہ ملک کی خودمختاری پر حملہ، غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت ہے، جس کا مقصد وینزویلا کے عوام کو دباؤ میں لانا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا وینزویلا پر حملے کا عندیہ، وائٹ ہاؤس حملے میں زخمی اہلکار ہلاک

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی جانب سے جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے، جن میں کیریبین میں بڑے عسکری ڈپلائمنٹ سمیت دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کی موجودگی بھی شامل ہے۔

وینزویلا نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی فضائی اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی اقدامات جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز وینزویلا  کی فضائی حدود کو مکمل بند قرار دیا تھا، جس سے کاراکاس میں تشویش اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایئرلائنز، پائلٹس، ڈرگ ڈیلرز اور ہیومن ٹریفکرز سب توجہ دیں، وینزویلا کے اوپر اور اردگرد کا فضائی علاقہ مکمل طور پر بند سمجھا جائے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی کارروائیاں کھلی جارحیت ہیں، وینزویلا کا دنیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ

امریکی میڈیا صورتحال کو دلچسپ قرار دے رہا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام اس اعلان سے حیران ہیں اور انہیں کسی ایسی جاری فوجی کارروائی کا علم نہیں جو وینزویلا کی فضائی حدود بند کرنے سے متعلق ہو۔

امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی مزید وضاحت فراہم نہیں کی۔

دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے اپنے بیان میں ٹرمپ کے بیان کی سخت مذمت کی اور اسے ملک کی خودمختاری کے خلاف ’’نوآبادیاتی دھمکی‘‘ قرار دیا ہے۔