Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

منگنی کی انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں کیوں پہنا جاتا ہے؟ دلچسپ وجہ جانیے

آج ہم آپکو بتائیں گے کہ منگنی کی انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ہی کیوں پہنا جاتا ہے۔

بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی کو “رنگ فنگر” کہا جاتا ہے۔

360,700+ Engagement Stock Photos, Pictures & Royalty-Free Images - iStock | Employee engagement, Engagement ring, Customer engagement

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق قدیم مصر کے عہد میں بھی لوگ شادی کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے جبکہ قدیم روم اور یونان میں بھی اس طرح کی تاریخ ملتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ زمانہ قدیم میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں موجود رگ سیدھی دل تک جاتی ہے۔

اس زمانے میں دل کو ہمارے جذبات کا مرکز تصور کیا جاتا ہے تو قدیم روم میں اس رگ کو محبت کی رگ کہا جاتا تھا۔

Couple holding hands and showing engagement ring · Free Stock Photo

یہی وجہ ہے کہ شادی یا منگنی کی انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں اس تصور کے ساتھ پہنایا جاتا تھا کہ شریک حیات سے تعلق مضبوط ہوگا۔

مختلف ثقافتوں میں بائیں کی جگہ دائیں ہاتھ میں منگنی یا شادی کی انگوٹھی کو پہنایا جاتا تھا، تاہم انگلی چوتھی ہی ہوتی ہے۔

مگر اب ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ انسانوں میں ایسی کوئی رگ ہوتی ہی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ دل بس خون پمپ کرنے والا عضو ہے۔

KD Photography - Price & Reviews | Ranchi Photographer

اس کے باوجود صدیوں سے چلی آ رہی اس روایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اب بھی منگنی یا شادی کی انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ہی پہنا جاتا ہے۔

درحقیقت اب بھی بیشتر افراد کا یہی ماننا ہے کہ بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی سے رگ دل تک جاتی ہے اور وہاں انگوٹھی پہننا رومانوی جذبات کا اظہار کرتا ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں