Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جنوبی کوریا ریسٹورنٹ کا تنہا آنے والوں کو کھانا دینے سے انکار

جنوبی کوریا میں اکیلے کھانا کھانے والوں کی مشکلات حالیہ برسوں میں ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہیں

جنوبی کوریا کے ریسٹورنٹ نے ایک بینرکے ذریعے تنہا آنے والے گاہکوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ تنہائی نہیں بیچتے۔

جنوبی کوریا کے شہر یئوسو میں ایک نوڈلز ریسٹورنٹ نے ایک بینر لگا کر آن لائن ایک بحث چھیڑ دی ہے، اس بینر میں ریسٹورنٹ میں تنہا آنے والوں کے لیے چارآپشنز پیش کیے گئے ہیں۔

تنہا آنے والے دو سرونگز کی قیمت ادا کریں،یا  دو سرونگز کھائیں، یا کسی دوست کو بلا لائیں، یا اگلی بار اپنی بیوی کے ساتھ آئیں۔

اور ساتھ ہی بینر میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ ہم تنہائی نہیں بیچتے۔ براہِ مہربانی اکیلے نہ آئیں۔

جنوبی کوریا میں اکیلے کھانا کھانے والوں کی مشکلات حالیہ برسوں میں ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہیں، کیونکہ زیادہ تر ریسٹورنٹس مہنگائی جن میں کھانے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ریسٹورنٹس  کی گنجائش کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔

چار افراد والی میز چار افراد کے لیے ہی بہتر سمجھی جاتی ہے، اسی لیے کئی ریسٹورنٹس اکیلے آنے والے گاہکوں کو اندر آنے سے روک دیتے ہیں، چاہے میزیں خالی ہی کیوں نہ ہوں۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ لائن میں کھڑا رہا، اور پھر انہیں بتایا گیا کہ تنہا آنے والوں کو اجازت نہیں ہے، انہوں نے شکایت کی کہ خالی میزیں ہونے کے باوجود انہوں نے بٹھانے سے انکار کر دیا۔

ریسٹورنٹ مالکان کا کہنا ہے کہ تنہا گاہکوں کو بٹھانا مشکل ہے کیونکہ خوراک، توانائی اور مزدوری کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور جنوبی کوریا کے قانون کے مطابق گاہکوں کا انتخاب کاروباری مالک کی صوابدید پر ہے اور یہ اصول تجارت کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

ملک بھر میں تقریباً 170,000 ریسٹورنٹس میں سے صرف 10.4 فیصد ایسے ہیں جو مارچ 2025 تک ایک فرد کے لیے کھانا پیش کرتے تھے۔