ورلڈ بینک نے اپنے تازہ ترین اور چونکا دینے والے مطالعے میں خبردار کیا ہے کہ 2030 تک جنوبی ایشیا کی 90 فیصد آبادی یعنی 1.8 ارب افراد ناقابلِ برداشت اور جان لیوا گرمی کی زد میں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کو ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ 462 ملین لوگ شدید سیلاب کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔
ترک میڈیا کے مطابق “فرام رسک ٹو ریزیلینس: ہیپلنگ پیپل اینڈ فرمز اڈاپٹ اِن ساؤتھ ایشیا” کے عنوان سے جاری رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی کیس اسٹڈیز کی بنیاد پر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کے انتہائی حساس خطوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے جہاں آتے برسوں میں شدید تر موسمی جھٹکے معمول بن سکتے ہیں۔

2030 تک کیا ہوگا؟ رپورٹ میں چونکا دینے والے نکات شامل ہیں جس کے مطابق خطے کے 1.8 ارب افراد خطرناک درجہ حرارت کا سامنا کریں گے اور 462 ملین افراد تباہ سیلابوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کا موسم بتدریج مزید شدید گرم اور بار بار بگڑے گا جس کا سامنا کرنا مشکل ہو گا کیونکہ خطے میں حفاظتی نظام ہے اور انتباہی سسٹمز بھی ناکافی ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق اگرچہ ساحلی علاقوں میں سائیکلون وارننگ سسٹم موجود ہے، لیکن آبادی کی نصف سے بھی کم تعداد کو سیلاب یا دیگر موسمی خطرات کے بارے میں بروقت معلومات مل پاتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو شدید گرمی اور سیلاب غریب اور کمزور طبقات کو سب سے زیادہ متاثر کریں گے۔
ورلڈ بینک نے حکومتوں کو تاکید کی کہ ابتدائی وارننگ سسٹمز کو جدید بنایا جائے، کمزور گھروں اور کمیونیٹیز کیلیے خصوسی پروگرام بنائے جائیں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل کیا جائے۔
تاہم رپورٹ نے خبردار کیا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے، اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بھی ضروری ہو گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو 2030 تک جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے گرم، سب سے زیادہ متاثرہ اور سب سے زیادہ خطرناک خطہ بن سکتا ہے۔

















