روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک غیر معمولی انکشاف کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے ابو ظبی میں روسی اور یوکرینی حکام کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے، جن کا آغاز یوکرین کی جانب سے کیا گیا تھا۔
اس مذاکرات میں امریکی انتظامیہ کا ایک نمائندہ بھی موجود تھا جس پر پیوٹن نے حیرت کا اظہار کیا۔
بشکیک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے بتایا کہ امریکہ نے ماسکو کو اطلاع دی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے باضابطہ وفد بھیجے گا اور اس وفد کی نوعیت و تشکیل مکمل طور پر واشنگٹن کا اپنا فیصلہ ہوگی۔
پیوٹن کے مطابق موجودہ امن منصوبے میں امریکہ نے روس کے کچھ نکات تسلیم کیے ہیں، تاہم متعدد اہم معاملات پر مزید سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنیوا میں امریکی اور یوکرینی وفود کی حالیہ بات چیت کے بعد امن منصوبے کے 28 نکات کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے یوکرینی حکومت کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ولادیمیر زیلینسکی کی مدتِ صدارت 2024 میں ختم ہو چکی ہے لہٰذا صرف یوکرینی پارلیمان ہی اپنے اختیارات بڑھا سکتی ہے۔
پیوٹن کا کہنا تھا کہ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب یوکرینی فوج موجودہ محاذ چھوڑ دے گی، بصورت دیگر روس فوجی طاقت سے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی فورسز زاپوریزیا کے قصبے ہولیا ئی پولے پر قبضہ کر چکی ہیں اور اس سمت میں مزید پیش قدمی یوکرینی دفاعی لائن کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
یورپی خدشات مسترد کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس کا یورپ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس جی7 میں واپسی نہیں چاہتا اور مغربی ممالک کی جانب سے روسی اثاثے ضبط کرنے کی صورت میں جوابی اقدامات کا پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔




















