بنگلہ دیش میں ڈینگی بخار کی صورتحال ایک بار پھر خطرناک حد تک بگڑ گئی ہے، گزشتہ روز ملک بھر میں ڈینگی سے مزید 7 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد رواں سال اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 377 ہو گئی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق نئی ہلاکتوں میں سے چار کا تعلق دارالحکومت ڈھاکا سے ہے جبکہ بدھ کو بھی 3 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 567 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جس کے ساتھ ہی رواں سال ہسپتالوں میں لائے گئے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 92,784 ہو چکی ہے۔ ان میں سے 90,219 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔
ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے، اور اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں صرف درد اور بخار کے علامات کا کنٹرول ہی ممکن ہوتا ہے۔
بنگلا دیش میں ڈینگی اب سال بھر کا خطرہ بن چکا ہے خاص طور پر جون سے ستمبر کے برساتی مہینوں میں اس کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ماہرِ حشریات پروفیسر کبیرال بشار کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بارشوں میں تاخیر اور درجہ حرارت میں اضافہ اس سال ڈینگی کی بلند شرح کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنوری کے بعد صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش نے گزشتہ برس اپنی تاریخ کا بدترین ڈینگی بحران دیکھا تھا جس میں 1,705 اموات اور 3 لاکھ 21 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔


















