مریخ پر بادلوں، بارشوں اور بجلی کڑکنے سے متعلق سائنسدانوں کا نیا دعویٰ سامنے آگیا۔ محققین کی ٹیم نے یہ دعویٰ 28 گھنٹوں کی مائیکروفون ریکارڈنگز کا جائزہ لینے کے بعد کیا۔
ماہرینِ کی جانب سے مریخ میں بجلی کڑکنے کے مظہر کو ریکارڈ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جس سے بادلوں اور بارشوں سے متعلق قیاس آرائیاں حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں ۔
2021 میں مریخ کی سطح پر اترنے والے ناسا کے پرزرویرنس روور کو سیارے پر حیاتیاتی علامات کی جانچ کے لیے بھیجا گیا تھا۔
گزشتہ چار برس سے جیزیرو کریٹر کے علاقے میں جلی کے کڑکنے کا معائنہ کیا جارہا ہے۔یہ مشاہدہ اور تنیجہ سپر کیم آلے سے ہونے والی آڈیو اور الیکٹرومیگنیٹک ریکارڈنگ سے سامنے آیا۔
سائنس دان پُر امید ہیں کہ ان نتائج کی تصدیق کی غرض سے ایٹماسفیئرک ڈسچارج کی پیمائش کے لیے نئے آلات اور مزید حساس کیمرا بھیجے جا سکتے ہیں۔
یہ تحقیق فرانس سے تعلق رکھنے والی محققین کی ٹیم نے کی ۔ 28 گھنٹوں کی مائیکروفون ریکارڈنگز کا جائزہ لیاگیا۔
ماہرین کو معلوم ہوا کہ الیکٹریکل ڈسچارجز کا آندھی اور مٹی کے طوفانوں سے معمول کا تعلق ہے۔
اس تحقیق کے بعد مریخ پر بارش اور پانی کے آثار کے ساتھ زندگی کے وجودسے اندازے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔



















