پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے بڑے ڈیجیٹل جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیجیٹل اجتماع ہو رہا ہے جو قوم کے سیاسی شعور اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی تاریخ پاکستان کے ماضی اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، یہ وہ جماعت ہے جس نے ملک میں آئین کی بنیاد رکھی اور ہر مشکل دور میں جمہوریت کا علم بلند رکھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے 30 سال جدوجہد جاری رکھی اور قوم کو روٹی، کپڑا، مکان اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی انقلابی سہولتیں دیں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، بھارت اور افغانستان دونوں جانب سے سازشیں ہو رہی ہیں، مگر پاکستان کو اندرونی اتحاد کے ساتھ بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے حال ہی میں منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم پارلیمان کے مشترکہ اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ترمیم دراصل شہید بے نظیر بھٹو کے ’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ کی روح کی تکمیل ہے، جس کے تحت آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب سپریم کورٹ عوامی کیسز پر توجہ دے گی جبکہ آئینی عدالت آئین سے متعلق معاملات سنبھالے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ عناصر آئینی عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر آئین سازی اور قانون سازی عوامی نمائندوں کا حق ہے، کوئی سیاسی مجمع یا جلسہ آئینی فیصلے نہیں کرسکتا۔
بلاول بھٹو نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات و وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے معاشی حقوق کا تحفظ کم کرنے سے وفاق کمزور ہوتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم اور این ایف سی سے کھیلنا ’’آگ سے کھیلنے کے مترادف‘‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا ہے اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر ہمیں اپنی فالٹ لائنز ختم کر کے متحد ہو جانا ہوگا۔
سندھ سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک پیپلزپارٹی کا ہر کارکن پاکستان مخالف سازش کا مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں ہر صوبے کا حصہ ہے، اور وفاق مضبوط تب ہوگا جب صوبوں کو بااختیار بنایا جائے۔
ہم نے کہا تھا گھاس کھائیں گے مگر ملک کا دفاع مضبوط کریں گے۔ آج بھی قوم اپنی قربانیوں اور ٹیکسوں کے ذریعے دفاع کو مضبوط کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے اندرونی سیاسی انتشار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بات کرنے کو تیار نہیں، یہ صورتحال ملک دشمن عناصر کے لیے فائدہ مند بن سکتی ہے۔ ہمیں سیاسی بحران سے نکل کر یکجہتی دکھانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ لڑی ہے اور آج بھی فورسز دہشتگردی کے ہر سر کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کامیاب جنگ ہمیشہ عوامی حمایت سے جیتی جاتی ہے، اس لیے احساس محرومی ختم کرنا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے آخر میں کہا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ان کے اندر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں جو مل کر ملک کو درپیش چیلنجوں سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔



















