راولپنڈی: اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ 2 کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بانی تحریکِ انصاف اور بشریٰ بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔
پی پی سی دفعہ 409 کے تحت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 7،7 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی، تاہم مجموعی طور پر دونوں کو 17،17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ ان دونوں کو ایک کروڑ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے مجموعی طور پر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 34 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی۔
فیصلے کے وقت ملزمان عدالت میں موجود تھے جبکہ ان کے وکلاء بعد میں اڈیالہ جیل پہنچے۔
چالان کے مطابق بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 7 سے 10 مئی 2021 کے دوران بلغاری جیولری سیٹ تحفے میں دیا تھا، جس میں ہار، انگوٹھی، کڑا اور بالیوں کا جوڑا شامل تھا، ان زیورات کی اصل قیمت 71.5 ملین روپے تھی، مگر قابل ادائیگی رقم صرف 35.7 ملین روپے ہونی چاہیے تھی۔ قیمت کم ظاہر کرنے سے قومی خزانے کو 32.85 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اختیارات کا غلط استعمال کیا اور 108 موصولہ تحائف میں سے 58 اپنے پاس رکھے۔ ملزمان پر اینٹی کرپشن سیکشن 409 کے تحت جرم ثابت ہوا۔
بانی اور بشریٰ بی بی پر الزام کیا تھا؟
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے 7 سے 10 جولائی 2021 کو سعودی عرب کا دورہِ کیا تھا، دورے کے دوران تحفے میں ملنے والے گراف جیولری سیٹ کو بانی اور بشریٰ بی بی نے اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔
بانی اور بشریٰ بی بی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ آدھی قیمت ادا کرکے تحفے اپنے پاس رکھے اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ انعام اللہ شاہ کے ذریعے صہیب عباسی پر پریشر ڈال کر کم قیمت لگوائی، 7 کروڑ سے زائد کے تحفے کی قیمت 58 لاکھ لگوائی جو جرم ہے۔
انعام اللہ شاہ اور صہیب عباسی بانی اور بشریٰ بی بی کے خلاف گواہ ہیں، نیب ترامیم سے پہلے توشہ خانہ کیس نیب قانون کے تحت چلا، 7 جنوری 2024 کو چیئرمین نیب نے انویسٹیگیشن کی منظوری دی تھی۔
19 اگست 2024 کو نیب نے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا، نیب ترامیم کی سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد 9 ستمبر کو احتساب عدالت نے کیس ایف آئی اے کورٹ بھیج دیا۔
15 ماہ سے کیس ایف آئی اے کی عدالت میں زیر سماعت ہے، استغاثہ نے ٹرائل کے دوران 20 گواہ پیش کیے۔




















