جراسک پارک فلم سیریز میں دکھائی گئی کئی چیزیں محض فکشن سمجھی جاتی ہیں مگر حیران کن طور پر فلم کا بنیادی تصور حقیقت سے زیادہ دور نہیں۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مچھر جن جانوروں کا خون چوستے ہیں، وہ اس علاقے میں موجود جانوروں کے بارے میں ایک مکمل حیاتیاتی نقشہ فراہم کرسکتے ہیں۔
ماہرِ حشریات لارنس ریوز کے مطابق مچھر کے خون میں موجود ڈی این اے کے ذریعے ’’چھوٹے مینڈکوں سے لے کر بڑی گائیں تک‘‘ کی موجودگی کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔
لارنس ریوز، ہنّا آٹسما اور ان کے ساتھی محققین نے وسطی فلوریڈا کے ایک 10,900 ہیکٹر پر مشتمل محفوظ علاقے میں آٹھ ماہ کے دوران 21 اقسام کے 50 ہزار سے زائد مچھر جمع کیے۔
چند ہزار مادہ مچھروں کے خون کے تجزیے سے سائنس دانوں نے 86 مختلف جانوروں کے ڈی این اے کی شناخت کی جو تقریباً 80 فیصد اُن مہرہ دار جانوروں پر مشتمل تھے جن پر مچھر خوراک حاصل کرتے ہیں۔
تحقیق میں درختوں پر رہنے والے، ہجرت کرنے والے، پانی اور خشکی دونوں میں رہنے والے، مقامی، غیر مقامی اور نایاب نسلوں کے جانور شامل تھے۔
بڑی جسامت والے جانوروں میں صرف نایاب فلوریڈا پینتھر اس فہرست میں شامل نہ ہوسکا جب کہ زیرِ زمین رہنے والے کچھ چھوٹے جانور بھی نتائج میں سامنے نہیں آئے۔
اسی ٹیم کی ایک دوسری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھروں کو ان کے زیادہ متحرک اوقات میں جمع کرنا، براہِ راست جانوروں کے سروے جتنا ہی مؤثر ہوسکتا ہے تاہم خشک موسم میں روایتی سروے بہتر نتائج دیتے ہیں۔
محققین کے مطابق اگرچہ قدیم مچھروں سے ڈائنوسار کا ڈی این اے حاصل کرنا ممکن نہیں مگر یہ طریقہ آج موجود انواع کو معدوم ہونے سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جنہیں عام طور پر نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، دراصل ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کی نگرانی کے لیے ایک کم لاگت اور مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔




















