Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بنگلا دیش کا بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار برقرار

2026 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 7 فروری سے شروع ہوگا

ڈھاکا:  کرکٹ میں سیاست کو گھسیٹنے  کے بھارتی طرز عمل کے بعد بنگلا دیش بھی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے پر ڈٹ گیا ہے۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیش کی ٹیم 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔

بی سی بی نے آئی سی سی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد جاری بیان میں اپنے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے باہر منتقل کیے جائیں۔

بی سی بی کے مطابق 2026 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 7 فروری سے شروع ہوگا۔

شیڈول کے تحت بنگلہ دیش کو اپنے ابتدائی تین میچ کولکتہ جبکہ آخری گروپ میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت غیر محفوظ قرار، بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ میچز کا بائیکاٹ

بی سی بی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے دوران بورڈ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت نہ جانے کے فیصلے کو دہرایا اور آئی سی سی سے میچز کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی۔

آئی سی سی نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول پہلے ہی جاری ہو چکا ہے اور بی سی بی سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی گئی، تاہم بنگلہ دیش بورڈ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

دونوں فریقین نے ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

بی سی بی نے واضح کیا کہ وہ اپنے کھلاڑیوں، آفیشلز اور عملے کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے آئی سی سی کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطے میں رہے گا۔

ویڈیو کانفرنس میں بی سی بی کی نمائندگی بورڈ صدر امین الاسلام، نائب صدور شکاوت حسین اور فاروق احمد، کرکٹ آپریشنز کمیٹی کے چیئرمین نظم العابدین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نظام الدین چودھری نے کی۔

واضح رہے کہ پیر کے روز آئی سی سی نے ایک داخلی سکیورٹی رپورٹ بی سی بی کو فراہم کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں بنگلہ دیشی ٹیم کو کسی غیر معمولی یا شدید خطرے کا سامنا نہیں، اگرچہ کچھ وینیوز پر کم سے درمیانے درجے کے خدشات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

آئی سی سی کے مطابق یہ خدشات عالمی معیار کے مطابق معمول کے زمرے میں آتے ہیں اور میچز کی منتقلی کی وجہ نہیں بنتے۔

ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت بڑھا جب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت کی کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 اسکواڈ سے نکال دیں۔

اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی۔

مستفیض الرحمان کے اخراج کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی لگا دی، جبکہ بی سی بی نے آئی سی سی کو خط لکھ کر بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار کر دیا۔