پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی ٹیم کی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق تمام تیاریوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔
نجی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان ٹیم مینجمنٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل سے متعلق ہدایات بعد میں دی جائیں گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیم مینجمنٹ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ متبادل منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ اگر پاکستان ورلڈکپ میں شرکت نہ کرے تو اس صورت میں بھی حکمتِ عملی موجود ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بنگلادیش کے دورہ نہ کرنے کے فیصلے پر مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق بنگلادیش کے سیکیورٹی خدشات حقیقت پسندانہ اور قابلِ فہم ہیں۔
اس سے قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ بنگلادیشی حکومت نے اس معاملے پر پاکستانی حکام سے رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر حمایت کی درخواست کی۔
جواباً پاکستان نے ڈھاکہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر بنگلادیش کے تحفظات کا کوئی مناسب حل نہ نکالا گیا تو پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اپنی شرکت پر نظرثانی کرسکتا ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ملک کو دوسرے ملک پر دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور بنگلادیش کے معاملے کو اس کے خدشات کی بنیاد پر مناسب سفارتی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بنگلادیش کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ 21 جنوری تک اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت جائے گا یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے یہ ڈیڈ لائن ڈھاکہ میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے دوران مقرر کی ہے۔



















