ایک نئی تحقیق کے مطابق انٹارکٹکا میں پینگوئنز نے اپنے افزائشِ نسل کے موسم میں غیر معمولی اور تیز رفتار تبدیلی کر لی ہے۔
ماہرین اس تبدیلی کو موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی تین اہم اقسام کے پینگوئنز کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کے ادارے پینگوئن واچ کی قیادت میں ہونے والی دس سالہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض پینگوئنز نے اپنے افزائشِ نسل کا آغاز تین ہفتوں سے بھی زیادہ پہلے کرنا شروع کر دیا ہے۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر اگناسیو خومارٹینیز کے مطابق، “پینگوئنز اب تاریخ میں کسی بھی وقت سے پہلے افزائشِ نسل کر رہے ہیں، جو ہمارے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔”
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں:کوپ 28 کے اہداف کیلیے موثر اقدامات نہ کیے جانے کا انکشاف
ماہرین کا کہنا ہے کہ افزائشِ نسل کے وقت میں یہ تبدیلی پینگوئنز اور ان کی خوراک کے درمیان توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔ اگر بچے ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب خوراک دستیاب نہ ہو تو ابتدائی دنوں میں خوراک کی کمی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں 2012 سے 2022 کے درمیان تین اقسام، ایڈیلی، چن اسٹرپ اور جینٹو پینگوئنز کا مطالعہ کیا گیا۔
انٹارکٹکا اور ذیلی انٹارکٹک جزائر میں واقع 37 کالونیوں پر نصب 77 ٹائم لیپس کیمروں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ تینوں اقسام نے اپنے افزائشِ نسل کا وقت ریکارڈ سطح پر آگے کر لیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جینٹو پینگوئنز میں سب سے زیادہ تبدیلی دیکھی گئی، جہاں اوسطاً افزائشِ نسل 13 دن پہلے ہوئی جبکہ بعض کالونیوں میں یہ فرق 24 دن تک پہنچ گیا۔
یہ کسی بھی پرندے بلکہ ممکنہ طور پر کسی بھی ریڑھ کی ہڈی والے جانور میں افزائشِ نسل کے وقت میں تیز ترین تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
ایڈیلی اور چن اسٹرپ پینگوئنز نے بھی اوسطاً 10 دن پہلے افزائشِ نسل شروع کی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تبدیلی سے مختلف پینگوئن اقسام کے درمیان خوراک اور گھونسلوں کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔
جینٹو پینگوئنز نسبتاً گرم موسم کے عادی ہیں اور موسمیاتی تبدیلی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ایڈیلی اور چن اسٹرپ پینگوئنز کی آبادی میں کمی آ رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق افزائشِ نسل کے اوقات میں یہ تبدیلی درجہ حرارت میں اضافے، برف کے جلد پگھلنے، سمندری برف کے ٹوٹنے یا فائٹوپلانکٹن کی جلد افزائش جیسے عوامل سے جڑی ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ پینگوئنز انٹارکٹک ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی تعداد میں کمی پورے ایکوسسٹم کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو اس صدی کے اختتام تک متعدد پینگوئن اقسام کے خاتمے کا خدشہ ہے، جو انٹارکٹکا کے ماحولیاتی توازن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔




















