Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا میں ویکسین گائیڈ لائنز میں تبدیلیوں سے ہیلتھ سیکٹرز چیلنجز کا شکار

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ویکسینیشن ہر سال 35 سے 50 لاکھ اموات کو روکتی ہے

امریکا میں ویکسین سے متعلق حالیہ پالیسی تبدیلیوں نے ڈاکٹروں، ماہرینِ صحتِ عامہ اور خاندانوں میں تشویش پیدا کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی دہائیوں سے جاری حفاظتی ٹیکوں کی سفارشات میں ترمیم یا بعض صورتوں میں واپسی کی گئی ہے، جس سے علاج، انشورنس اور عوامی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ویکسینیشن ہر سال 35 سے 50 لاکھ اموات کو روکتی ہے اور متعدی بیماریوں کی روک تھام، اجتماعی مدافعت اور صحت کے نظام پر دباؤ کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

امریکا میں 1964 سے ایڈوائزری کمیٹی آن امیونائزیشن پریکٹسز (ACIP)، سی ڈی سی اور محکمہ صحت کو ویکسین سے متعلق سفارشات دیتی آ رہی ہے، جن کی بنیاد پر قومی ویکسین شیڈول اور انشورنس کوریج طے ہوتی ہے۔

تاہم جون 2025 میں ACIP کے تمام 17 ارکان کو تبدیل کر دیا گیا، جس کے بعد نئی کمیٹی نے وسیع سائنسی شواہد کے باوجود کئی اہم ویکسین سفارشات واپس لے لیں۔

مزید پڑھیں: ایف ڈی اے کا کووِڈ ویکسین پر بلیک باکس وارننگ لگانے کا ارادہ، ماہرین حیران

جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (JAMA) میں شائع ایک مضمون کے مطابق ان فیصلوں نے طبی میدان میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

نمایاں تبدیلیوں میں 2025 کے وسط میں تھائمرسال پر مشتمل فلو ویکسین کو ہٹانا شامل ہے، حالانکہ تحقیق کے مطابق یہ جزو محفوظ ہے۔

اسی طرح بچوں میں ایم ایم آر (خسرہ، ممپس، روبیلا) کی مشترکہ ویکسین کے پہلے ڈوز کا آپشن ختم کر دیا گیا، جبکہ اس فیصلے کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔

دسمبر 2025 میں نوزائیدہ بچوں کو پیدائش کے وقت ہیپاٹائٹس بی ویکسین لگانے کی روٹین سفارش کو بھی “مشترکہ طبی فیصلہ سازی” میں بدل دیا گیا، جس پر امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس سمیت متعدد طبی اداروں نے سخت تنقید کی۔

جنوری 2026 میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں مزید بڑی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے تحت 17 بیماریوں کی بجائے صرف 11 کے خلاف روٹین ویکسینیشن رکھی گئی، جبکہ دیگر ویکسینز کو صرف ہائی رسک گروپس تک محدود کر دیا گیا۔

ان تبدیلیوں میں ہیپاٹائٹس، روٹا وائرس، فلو، آر ایس وی اور کووڈ-19 ویکسینز بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان فیصلوں سے ویکسین تک رسائی محدود، عوامی الجھن میں اضافہ اور ویکسینیشن پر اعتماد میں کمی آ سکتی ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر نیتھن لو کا کہنا ہے کہ ویکسین سے استثنیٰ میں اضافہ قابلِ علاج بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا دے گا۔

طبی ماہرین ڈاکٹروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مریضوں سے کھلے دل سے بات چیت کریں، ویکسین کے فوائد واضح کریں اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر حفاظتی ٹیکوں کی سفارش جاری رکھیں۔

انشورنس کمپنیوں نے عندیہ دیا ہے کہ 2026 تک بیشتر ویکسینز کی کوریج برقرار رکھی جائے گی، تاہم مستقبل میں وفاقی پروگرامز میں تبدیلیاں ویکسین تک رسائی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔