Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کی زرعی شعبہ میں تاریخ ساز پیش رفت؛ عالمی شراکت داری کا روشن باب

پاکستان نے چین اور انڈونیشیا کے ساتھ زرعی و اقتصادی تعاون میں اہم سنگِ میل عبور کیا

ایس آئی ایف سی کی فعال سفارتی و معاشی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

 پاکستانی زرعی شعبہ میں اہم کامیابیوں کے ساتھ پاکستان نے چین اور انڈونیشیا کے ساتھ زرعی و اقتصادی تعاون میں اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبہ میں 79 کمپنیوں کے ساتھ 4.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ پاک-چین زرعی سرمایہ کاری کے معاہدے 10 کلیدی شعبوں پر محیط ہیں جن میں فوڈ پروسیسنگ، ایگری ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اوردیگرشامل ہیں۔

دوسری جانب وزیرِ تجارت جام کمال خان اور انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسنانتو سوکوٹجون کی اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین چاول کی تجارت اور زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان دنیا کے صفِ اول کے چاول برآمد کنندگان میں شامل ہے، جس نے معیار اور اعتماد کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں اپنی پہچان بنائی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مستحکم کریں گے۔

 ایس آئی ایف سی کے مؤثر اقدامات سے پاکستان کی معیشت اور زرعی شعبہ میں نیا سنہرہ دور شروع ہوگیا ہے۔

ماہرین نے پاکستان اور چین کی شراکت داری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی کا شکر گذار ہوں جس کی بدولت پاکستان اور چین کے درمیان جوائنٹ وینچرز سے سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، زرعی اور خوراک کے شعبے میں چینی کمپنیوں کی شمولیت پاکستان کے لیے نمایاں فوائد فراہم کرے گی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور چین کے سرمایہ کاروں کی براہِ راست ملاقاتیں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دیں گی جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کو فروغ، گزشتہ سال ہزاروں ٹن کی برآمدات مکمل اور رواں سال حجم میں دوگنا اضافہ متوقع ہے۔