رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا ڈرامہ ختم کیا جائے اور کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائے۔
رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریاست، حکومت چلانے والوں نے پاکستان کی حفاظت کرنے کی قسمیں لی ہیں، میں ریاست کو کہتا ہوں کہ آپ نے بیرونی دہشت گردی سے تو بچا لیا، ریاستی مشینری سے کہوں گا کہ ہمیں اندر کی دہشت گردی سے کون بچائے گا؟ ہمیں اندر سے دشمن کھوکھلا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری دہشت گردی بند کی جائے، ہم کہاں جائیں کس سے فریاد کریں؟ جمہوری دہشت گردی کو فی الفور بند ہونا چاہیے، بلدیہ فیکٹری، بوری بند لاشوں وغیرہ کا نام لے کر ہمیں نہ ڈرایا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا ڈرامہ ختم کیا جائے، میں ریاست کو 2 باتیں کہنا چاہتا ہوں، اب بس ہوگئی ہے، کراچی کو پاکستان کا فنانشل دارالخلافہ اور فیڈرل ٹیریٹری کا حصہ بنایا جائے، کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاق کے زیر انتظام دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 18ویں ترمیم میں سقم دور کرنے کی کوشش؛ حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر بات کا الزام ایم کیوایم پر ڈال دیا جاتا ہے، کیا آپ نے کراچی کو اس وقت نہیں دیکھا جب شہر ایم کیو ایم کے پاس تھا، حق بات کرنے والوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے، کزارش ہے اس ملک کو تباہی و بربادی سے روک لیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے اختیارات لوگوں کی نسل کشی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں،اس ترمیم سے لوگوں کو فائدہ نہیں بلکہ لوگوں کو مارا جارہا ہے، ایڈمنسٹریشن اس قابل نہیں کہ کراچی کو چلائے۔
انہوں نے بتایا کہ18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کیا ہم نے ساری عمارتیں غلط بنائیں؟ پیپلزپارٹی کی صوبے میں 18 سال سے حکومت، میئر ان کا ہے، حکومت نے ہمیں کن لوگوں کے حوالے کر دیا، ہم اپنا خون اور کتنی لاشیں دیں کہ ہماری حب الوطنی پر سوال نہ کیا جائے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پر صرف بلدیہ فیکٹری کی آگ کا الزام نہیں ہے، بولٹن مارکیٹ کی آگ کس کو یاد نہیں ،ایک وقت میں 22 عمارتوں کو آگ لگی، سارا کراچی کہہ رہا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر رہے، ہم تو ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں، کتنا خون دیں، کتنی لاشیں ہم مزید اٹھائیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ کراچی میں ایک روز میں 100 افراد کو قتل کیا جاتا تھا، ریاست 30 سال سے’’را‘‘ کا نیٹ ورک ختم کرنے میں ناکام تھی، سانحہ گل پلازہ آخری سانحہ نہیں، ہم کیا کریں، گل پلازہ متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں کراچی میں روز کئی لوگ مرتے ہیں۔


















