گھوڑا انسان کا دوست اور سب سے وفادار جانور ہے، اور اسی قربت کی وجہ سے یہ جانور انسانوں میں خوف کو سونگھنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہیں۔
سائنس دانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک انتہائی منفرد تحقیق کے مطابق گھوڑے انسانوں میں خوف کو سونگھ سکتے ہیں۔
محققین نے اس حوالے سے پیش گوئی کی کہ یہ نئے نتائج سواروں اور تربیت دینے والوں کے علاوہ گھوڑوں کے ساتھ کام کرنے والے کسی اور کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانوں کو گھوڑوں کے جذباتی اثرات سے آگاہ ہونا چاہیے، کیونکہ لوگ جانوروں کے ساتھ قریب سے جڑے ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں رضاکاروں کو ہارر مووی سنسٹر اور فیل گڈ فلم سنگنگ ان دی رین کے کلپس دیکھائے گئے جبکہ اس دوران انہوں نے اپنی بغلوں میں سوتی پیڈ رکھے تاکہ یہ پسینے کو جذب کرسکے۔
اس کے بعد روئی کے پیڈ کو گھوڑوں کے منہ پر براہ راست ان کے نتھنوں پر باندھا گیا، جس میں یہ معلوم کرنا شامل تھا کہ جانور کتنی بار ان کے ہینڈلر کے پاس آئے، ان کو چھوا ان پر ردعمل پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خوف میں مبتلا کردینے والی ان سیڑھیوں پر چڑھنا چاہیں گے
گھوڑوں نے ڈراؤنی ویڈیوز دیکھنے والے لوگوں اور پھر خوشی کی فوٹیج کے ساتھ مشغول رہنے والوں کے جسم کی بو سونگھی۔
گھوڑے پہلے گروپ کے پسینے کی بو سونگھ کر زیادہ اچھلنے لگے، اور اس کی دل کی دھڑکن میں اضافہ ہوا اوران کو ہینڈلرز کے ساتھ کم بات چیت کرتے دیکھا گیا، جبکہ دوسرے گروپ کی پیسنے پر اس طرح کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
نتائج کے مطابق انسانوں اور گھوڑوں کے درمیان خوف ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے والا (متعدی) جذبہ ہے، مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ جانوروں اور انسانوں کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے۔
لاشعوری طور پر ہم اپنے جذبات جانوروں میں منتقل کر سکتے ہیں، جس کے بدلے میں ان کے اپنے جذبات پر کافی اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو لوگ گھوڑوں کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں ان کے جذبات پر پڑنے والے اثرات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
تاہم آرام اور مثبت موڈ میں پہنچنا گھوڑے کے ساتھ بہتر تعامل کو فروغ دے سکتا ہے، جبکہ اگر آپ خود سے ڈرتے ہیں تو گھوڑا جواب میں خوف محسوس کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر خوفناک صورت حال پر زیادہ سخت ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔




















