Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فالج کے مریض اب جدید ڈیوائس سے بات چیت کر سکیں گے

حیرت انگیز ڈیوائس مریض کی جانب سے بولے بغیر کیے گئے الفاظ اور جذبات کو بھی پہچان سکتی ہے

فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں مریض کو بات چیت کرنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم، اب ایک ایسی جدید ڈیوائس تیار کی گئی ہے جو اس مسئلے کا بہترین حل ثابت ہوگی۔ 

برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج نے مریضوں کے لیے ایک جدید اے آئی کالر ڈیوائس متعارف کرائی ہے، جو گلے کے سگنلز کو قدرتی اور رواں آواز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیق کے مطابق، ری وائس نامی یہ اے آئی ڈیوائس مریض کے گلے میں پہنائی جاتی ہے اور اس کے ذریعے اسپیچ سگنلز کے ساتھ دل کی دھڑکن سے سگنلز حاصل کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں، مصنوعی ذہانت کے ذریعے یہ سگنلز ڈی کوڈ کیے جاتے ہیں، جس سے الفاظ فصیح اور روان جملوں میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں

یہ بھی پڑھیں: انسانی آنکھ اور دماغ کی طرح عمل کرنے والی انوکھی ڈیوائس تیار

مطالعے کے نتائج کے مطابق، اس ڈیوائس نے لفظوں کی درستگی میں تقریباً 96 فیصد اور جملوں کی درستگی میں 97 فیصد حاصل کی، جو فالج یا دیگر نیورولوجیکل مسائل کے شکار مریضوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔

یہ حیرت انگیز ڈیوائس مریض کی جانب سے بولے بغیر کیے گئے الفاظ اور جذبات کو بھی پہچان سکتی ہے اور انہیں جملوں میں تبدیل کر سکتی ہے، جس سے مریض روزمرہ گفتگو میں اعتماد کے ساتھ حصہ لے سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف سٹروک کے مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہوگی بلکہ مستقبل میں پارکنسنز اور دیگر نیورولوجیکل بیماریوں میں بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔