Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

علی ظفر کا البم ’روشنی‘؛ پاکستانی تخلیق کاروں کو عالمی ڈیجیٹل اسٹیج پر نمایاں کردیا

علی ظفر کا بہترین فین ویڈیو کے لیے ڈھائی لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان۔

لاہور: معروف گلوکار و اداکار علی ظفر کا آنے والا میوزک البم ’روشنی‘ محض ایک موسیقی کا منصوبہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سطح پر تخلیقی سرگرمیوں کی ایک نئی اور منفرد لہر کی شکل اختیار کرچکا ہے جس میں فن، ٹیکنالوجی اور کمیونٹی کا حسین امتزاج دیکھنے میں آرہا ہے۔

علی ظفر کی جانب سے البم کے کسی بھی گانے سے متاثر ہوکر بنائی گئی بہترین فین ویڈیو کے لیے ڈھائی لاکھ روپے کے نقد انعام کے اعلان کے بعد انٹرنیٹ پر غیر معمولی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے تخلیق کار ’روشنی‘ کو اپنے اپنے بصری انداز میں دوبارہ تخلیق کررہے ہیں۔

ان تخلیقات میں کہیں سینیمیٹک لائیو ایکشن کہانیاں نظر آرہی ہیں، کہیں ہائی کانسپٹ ایڈیٹس سامنے آرہے ہیں جب کہ ڈیجیٹل آرٹسٹس کی ایک بڑی تعداد اے آئی سے تیار کردہ ویژولز پیش کر رہی ہے جو مستقبل نما، ماورائی اور جذباتی طور پر گہرے محسوس ہوتے ہیں۔ اس طرح ’روشنی‘ کی موسیقی سیکڑوں بصری تشریحات کا نقطۂ آغاز بن چکی ہے۔

روایتی سرکاری میوزک ویڈیو جاری کرنے کے بجائے علی ظفر نے دنیا بھر کے فلم سازوں، اینیمیٹرز، ڈیزائنرز اور اے آئی آرٹسٹس کو دعوت دی ہے کہ وہ ’روشنی‘ کی موسیقی کے ذریعے اپنی اپنی کہانیاں بیان کریں۔

اس اقدام کے ذریعے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر نمایاں ہونے کا موقع ملا ہے، جہاں نئے اور غیر معروف تخلیق کاروں کو پہچان، پذیرائی اور انعام بھی حاصل ہورہا ہے۔

علی ظفر کی ٹیم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد موسیقی کو کسی ایک وژن تک محدود رکھنے کے بجائے اظہار، نور اور اجتماعی احساسات کا ذریعہ بنانا ہے تاکہ سامعین محض سننے والے نہیں بلکہ خود کہانی سنانے والے بن سکیں اور نئی آوازوں، نئے ٹولز اور نئے تخلیقی زاویوں کو فروغ ملے۔

اس تحریک کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا تنوع ہے، جہاں روایتی فلم ساز مختصر فلمیں بنارہے ہیں، رقاص موسیقی کو حرکت کے ذریعے پیش کررہے ہیں جب کہ اے آئی آرٹسٹس ایسے خواب ناک اور تخیلاتی جہان تخلیق کررہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں۔

یوں علی ظفر کا البم ’روشنی‘ ایک اجتماعی آرٹ فینومینا کی صورت اختیار کرچکا ہے جس کے ذریعے تخلیق کو عوامی سطح پر فروغ دیا جارہا ہے، ٹیکنالوجی کو اپنایا جارہا ہے اور پاکستانی کہانی سنانے کا مستقبل پہلے سے زیادہ روشن، جرات مند اور جامع دکھائی دے رہا ہے۔