Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دیوہیکل کینگرو بھی چھلانگ لگانے کے قابل تھے؟ قدیم فوسلز سے حیران کن انکشاف

سب سے بڑے کینگرو کو پروکوپٹڈون گولیاہ کہا جاتا ہے جو تقریباً دو میٹر لمبا اور 250 کلوگرام تک کا ہوسکتا تھا۔

آسٹریلیا کے صحرا میں کینگرو کا چھلانگ لگاتے ہوئے چلنا ایک مشہور منظر ہے لیکن نئی تحقیق کے مطابق قدیم زمانے میں یہ منظر شاید آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ شاندار اور دلچسپ رہا ہوگا۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر، یونیورسٹی آف برِسٹل اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبرن کے محققین نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ دیوہیکل کینگرو اپنے موجودہ نسل کے کینگروز سے تقریباً دو گنا زیادہ وزنی تھے جو ضرورت پڑنے پر چھلانگ بھی لگاسکتے تھے۔

جیسا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں جانور قدیم زمانے میں زیادہ بڑے تھے، اسی طرح آسٹریلیا میں بھی جانور آج کے مقابلے میں بہت بڑے تھے۔

سب سے بڑے کینگرو کو پروکوپٹڈون گولیاہ کہا جاتا ہے جو تقریباً دو میٹر لمبا اور وزن میں 250 کلوگرام تک کا ہوسکتا تھا، یعنی موجودہ کینگرو کے 90 کلوگرام کے جسم کے مقابلے میں بہت زیادہ بھاری۔

یہ اضافی وزن پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان دیوہیکل کینگروز کے لیے چھلانگ لگانا ناممکن ہوگا اور ایڑی کے پٹھے پر بہت زیادہ دباؤ پڑے گا، اس لیے خیال کیا جاتا تھا کہ یہ جانور زیادہ تر انسان نما قدموں کے ساتھ چلتے تھے۔

تاہم حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ جانور کم فاصلے کے لیے چھلانگ لگانے کے قابل تھے۔ محققین نے 63 کینگرو اور والابی کی انواع کے ہڈیوں کا تجزیہ کیا جن میں 94 موجودہ اور 40 قدیم فوسلز شامل تھے۔

موجودہ انواع کو بنیاد بناکر محققین نے اندازہ لگایا کہ دیوہیکل کینگرو کے پاؤں پر چھلانگ کے دوران پڑنے والی طاقت کو برداشت کرنے کے لیے ٹینڈنز کتنے بڑے اور مضبوط ہونے چاہیے تھے اور پھر ایڑی کی ہڈیوں کا جائزہ لیا کہ آیا وہ اتنی مضبوط ٹینڈنز کو سہارا دے سکتی ہیں یا نہیں۔

انہوں نے ان کے پاؤں کی چوتھی ہڈی (میٹاٹارسل) کی لمبائی اور موٹائی بھی ناپی کیونکہ یہ ہڈی چھلانگ کے دوران سب سے زیادہ دباؤ برداشت کرتی ہے۔

نتائج سے پتا چلا کہ تمام قدیم انواع میں چھلانگ لگانے کے لیے مناسب جسمانی صلاحیت موجود تھی۔ ایڑی کی ہڈیاں ٹینڈنز کو سہارا دینے کے لیے مضبوط تھیں اور میٹاٹارسل بھی دباؤ برداشت کرنے کے قابل تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیچھے کے دیگر حصے بھی چھلانگ کے قابل تھے۔

تاہم یہ ضروری نہیں کہ یہ دیوہیکل جانور کھلے میدانوں میں مسلسل چھلانگ لگاتے رہتے ہوں۔ زیادہ تر وقت یہ شاید چلنے کو ترجیح دیتے تھے اور صرف مشکل زمین عبور کرنے یا شکار سے بچنے کے لیے چھلانگ لگاتے تھے۔

محققین کا کہنا ہے ’’اگرچہ چھلانگ ان کا بنیادی انداز حرکت نہیں تھا مگر ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ مختصر دورانیے کی رفتار کے لیے حرکت کے مجموعے کا حصہ ہوسکتی تھی‘‘۔