ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگیا ہے جس سے پاکستانی معیشت مستحکم ہورہی ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع روشن ہورہے ہیں۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حقیقی اعداد و شمار پیش کر دیے، جس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بحال ہونے کا واضح مظہر ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق معاشی استحکام اور سازگار سرمایہ کاری کے ماحول نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش اور اولین انتخاب بنادیا۔
حالیہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) سرمایہ کار سینٹیمنٹ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتماد 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگیا۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین ڈالر اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے علاقائی ایکسپورٹ حب بنانے کا فیصلہ کیا، نیسلے پاکستان سے 26 ممالک کو برآمدات کے ذریعے مقامی مینوفیکچرنگ کو مستحکم اور پیداواری صلاحیت کو وسعت دے گا۔
انکا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (سوکار) فروری میں پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے گی، سوکار توانائی کمپنی پاکستانی مارکیٹ کی صلاحیت اور وسعت، بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور اصلاحات کی رفتار کی معترف، پاکستان کو طویل المدتی توانائی کا شراکت دار قرار دیا۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ 15 سے 18 ماہ میں 20 غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان پہنچے، صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی، پاکستان آنے والی غیر ملکی کمپنیوں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، وافی، ابو ظہبی پورٹس، سیمسنگ، ٹرکش پیٹرولیم، نووا منرلز اور دیگر شامل ہیں۔
مشیر وزیر خزانہ کے مطابق لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں مالی سال 2026 کے جولائی تا نومبر کے پانچ ماہ میں 6 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ کی فروخت 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 24 فیصد اور موبائل فونز کے فروخت میں 20 فیصد زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں 1.17 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بحالی کا عکاس ہے، جو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس معیشت کی بحالی کی علامت ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال میں پہلی بار2.1 ارب امریکی ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا، مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد پر آ گئی۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آگیا جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد رہا۔
مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے نصف میں ترسیلات زر میں 19.7 ارب یعنی 11فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ ٹیکنالوجی ایکسپورٹس 437 ملین ڈالر ریکارڈ ہوا، تاہم درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اجزاء اور سرمایہ کاری کی اشیاء پر مشتمل ہے، جو پیداواری سرگرمیاں مستحکم ہونے کا مظہر ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول اور معاشی استحکام ملک کے روشن مستقبل اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی نشانی ہے، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پاکستان کے مضبوط معاشی مستقبل اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اہم اشارہ ہے۔


















