جرمنی کے فراؤن ہوفر انسٹیٹیوٹ فار سیرامک ٹیکنالوجیز اینڈ سسٹمز کی ایک ٹیم نے سوڈیم آئن بیٹری کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جس میں لگنن کو بطور الیکٹروڈ استعمال کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ لگنن پودوں میں پایا جانے والا ایک قدرتی مرکب ہے، جو درختوں کی ریشوں کو آپس میں جوڑنے کا کام کرتا ہے اور اس کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔
یہ بیٹری خاص طور پر ماحول دوست اور سستی ہے، کیونکہ لگنن دنیا کے مختلف حصوں میں آسانی سے دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں، دوسرے بیٹری مواد جیسے لیتھیم اور کوبالٹ مہنگے اور مشکل سے ملنے والے ہوتے ہیں۔
بیٹری کی تیاری کے لیے لگنن کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے، جس سے یہ سخت کاربن بن جاتا ہے، اور پھر اس سے بیٹری کا منفی الیکٹروڈ بنایا جاتا ہے۔ اس بیٹری کے مثبت الیکٹروڈ کے لیے غیر زہریلے لوہے پر مبنی مواد استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی بیٹریاں کتنے برس تک کار آمد رہتی ہے، تحقیق میں اہم انکشاف
لگنن سے بنی بیٹری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زیادہ محفوظ ہے اور اسے دوبارہ استعمال کرنا آسان ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بیٹری لیتھیم والی بیٹریوں کے مقابلے میں ماحول پر کم اثر ڈالتی ہے۔
اب تک کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ لگنن کی بیٹری سوڈیم آئنز ذخیرہ کرنے میں بہترین کام کر رہی ہے اور 100 بار چارج اور ڈسچارج ہونے کے بعد اس کی کارکردگی میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔
یہ بیٹریاں خاص طور پر چھوٹی گاڑیوں اور گودام کی گاڑیوں جیسے فورک لفٹوں کے لیے مفید ہو سکتی ہیں، جہاں تیز چارجنگ کی ضرورت کم ہوتی ہے۔




















