Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شدید برفباری سے نظامِ زندگی مفلوج؛ مکانات اور درخت گر گئے، سڑکیں بند، درجنوں افراد ریسکیو

بالائی علاقوں میں کئی کئی فٹ برف پڑنے سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔

 بالائی علاقوں میں کئی کئی فٹ برف پڑنے سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، بجلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا، تاہم پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کی بروقت کارروائیوں کے باعث درجنوں افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

آزاد کشمیر

آزاد جموں و کشمیر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم چکا ہے، تاہم وادی لیپہ، بالائی نیلم، سدھن گلی، پیر چناسی، محمود گلی اور لسڈنہ سمیت کئی بالائی علاقوں کی شاہراہیں تاحال بند ہیں۔

شدید برفباری کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا جبکہ مظفرآباد میں درجہ حرارت منفی 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔

ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت تقریباً 25 گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، جن میں سوار 100 کے قریب افراد میں سے 32 مسافروں کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا۔

 ایمبولینس میں موجود دو میتیں بھی نکال لی گئیں۔ وادی نیلم میں شدید برفباری کے باعث تین مکانات منہدم ہو گئے۔

برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد شاہراہیں بند ہوگئیں جبکہ بجلی کے پول گرنے اور تاریں ٹوٹنے کے باعث کئی علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

خیبرپختونخوا

وادی کاغان میں برفباری کے بعد رابطہ سڑکیں بند ہونے پر انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا جبکہ سیاحوں کو بالاکوٹ میں روک لیا گیا۔ دیربالا، کمراٹ، لواری ٹنل اور باجوڑ میں بھی راستے بند ہیں۔

ملاکنڈ میں کئی سال بعد برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔ خیبر میں برف میں پھنسے افراد کو ریسکیو کر کے پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کیا گیا جبکہ شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

گلگت بلتستان

چلاس اور اپر کوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔

استور میں شدید برفباری سے نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا اور علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف پڑ چکی ہے جبکہ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بند ہو گئی۔

ہنزہ اور نگر میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، جہاں وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو شدید سردی کا سامنا ہے۔

گلیات

نتھیاگلی میں 3 فٹ سے زائد جبکہ ٹھنڈیانی میں 4 فٹ تک برف پڑنے سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں۔ نتھیاگلی میں درجہ حرارت منفی 9 اور ایبٹ آباد میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ایبٹ آباد سے مری جانے والی مرکزی سڑک اور گلیات کے متعدد دیہات کی رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

گلیات میں گزشتہ دو روز سے بجلی معطل ہونے کے باعث گھروں میں حرارت کا انتظام متاثر اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔

مری

ملکہ کوہسار مری میں 24 گھنٹے جاری رہنے والا برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ تمام رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے جبکہ سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔

 ضلعی انتظامیہ کے مطابق مری کے تمام ہوٹل بھر چکے ہیں اور مزید سیاحوں کی گنجائش نہیں۔

بلوچستان

شمالی بلوچستان میں برفباری رکنے کے باوجود سائبیرین ہواؤں کے باعث شدید سردی برقرار ہے۔ کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا جس سے شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ این 50 ژوب ہائی وے کئی مقامات پر بند ہے جبکہ زیارت جانے والے سیاحوں پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے الرٹس

این ڈی ایم اے نے 23 سے 29 جنوری تک پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔

 ادارے کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں مزید برفباری متوقع ہے۔

پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق اتوار رات سے منگل تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے، جس کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔